دوسرا سبق
الرسالہ، فروری ۱۹۹۲، صفحہ ۲۷
اشتراکی نظریہ مکمل معنوں میں ایک لادینی نظریہ تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ خدا اور مذہب کا عقیدہ محض ایک فرضی عقیدہ ہے جس کو استحصال پسند طبقہ نے اپنے مفاد کے لیے گھڑلیا ہے۔ اس کا حقیقت واقعہ سے کوئی تعلق نہیں۔ اشتراکی نظام کی موت نے اس افسانہ کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔ روس میں ۱۹۱۷ء میں اشتراکی انقلاب آیا۔ اس کے بعد پوری اشتراکی مملکت میں سرکاری طور پر مذہب کا خاتمہ کر دیا گیا۔ عبادت خانے بند کر دیے گئے۔ مذہبی لٹریچر ممنوع قرار دے دیا گیا۔ کسی بھی قسم کی مذہبی سرگرمی خلاف قانون قرار پائی۔ اخبار، ریڈیو، ٹیلی ویژن، سب خلاف مذہب پروپیگنڈے کے لیے وقف کر دیے گئے۔ تعلیمی نظام شروع سے آخر تک مذہب کی نفی کی بنیاد پر قائم کر دیا گیا۔ وغیرہ۔ ۷۵ سال تک اسی نہج پر پوری اشتراکی سوسائٹی کا نظام چلایا جاتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ تمام لوگ مرختم ہوگئے جو قدیم مذہبی سماج میں پیدا ہوئے تھے۔ اب اشتراکی سماج تقریب سب کا سب ان افراد پرمشتمل تھا جن کی پرورش نے غیر مذہبی سماج میں ہوئی تھی۔
مگر تجربہ حیرت انگیز طور پر اثر آور ہوا۔ اشتراکی سماج کے تقریباً ۹۹ فی صد لوگ اشتراکیت کے مخالف ہو گئے ۔ دوسری طرف مذہب کا یہ حال ہوا کہ وہ ہر قسم کے مخالفانہ حالات کے باوجود بدستور لوگوں کے دلوں میں باقی رہا۔ چنانچہ آج جب اشتراکی سماج میں آزادی آئی ہے تو تمام مسجدیں اور تمام چرچ بھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایک طرف اشتراکی لیڈروں کے مجسمے گرائے جارہے ہیں اور دوسری طرف عبادت خانے ازسر نو تعمیر کیے جارہے ہیں۔ اشتراکی لٹریچر جلایا جارہا ہے اور قرآن اور بائبل کے نسخے گھروں کی تعداد میں لوگوں کے گھروں میں پہنچ رہے ہیں۔
خدا کا عقیدہ فطرت انسانی کا لازمی حصہ ہے اس لیے وہ باقی رہا۔ اشتراکیت ایک گھڑا ہوا بے بنیاد فلسفہ تھا اس لیے اس کا خاتمہ ہوگیا۔
دوسرا سبق
خلیج کی جنگ کے بعد انہدام کا جو واقعہ اشتراکی ایمپائر کے ساتھ پیش آیا ہے، وہی واقعہ دوسری عالمی جنگ کے بعد برٹش ایمپائر کے ساتھ پیش آچکا ہے۔ مگر دونوں میں ایک فرق ہے۔ برٹش ایمپائر کا خاتمہ بنیادی طور پر خارجی خطرہ کی بنیاد پر ہوا تھا۔ برطانیہ کے زیر قبضہ علاقوں میں ہر جگہ نیشنلزم کی تحریکیں پھیل گئیں ۔ ان تحریکوں نے ہر ملک میں قومی حکومت کا رجحان پیدا کیا۔ اس کے نتیجہ میں نو آبادیاتی حکومت کی
‹ Previous page Next page › Contents of February 1992 All issues