Verily, with every hardship comes ease.
الرسالہ، فروری ۱۹۹۲، صفحہ ۳۳
خوشی سے محرومی کی تلافی وہ شراب کے ذریعہ کرتا ہے۔ امریکیوں کی غلط عادتوں نے ، ساری ترقی کے باوجود ، انہیں اندر سے کھوکھلا کر رکھا ہے۔
محمد اسد صاحب کے انگریزی ترجمہ قرآن (The Message of the Quran) کا ذکر سنا تھا مگر اس کو دیکھنے کا موقع نہیں ملا تھا۔ یہاں اس کو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ میرے سامنے جو نسخہ ہے ، وہ نہایت عمدہ چھپا ہوا صرف ایک جلد میں ہے۔ اس کے ایک ہزار صفحات ہیں۔ وہ انگلینڈ میں چھپا ہے اور درج ذیل ادارہ نے اس کو شائع کیا ہے :
Dar al-Andalus Limited, 3 Library Ramp, Gibraltar تشریحی نوٹوں میں محمد عبده ( المنار ) کے کافی حوالے ہیں اور اسی طرح الرازی کے بھی۔ تاہم بیشتر مقامات پر تشریح کا انداز روایتی ہے۔ مثال کے طور پر عسی ان يبعثك ربك مقاماً محمودا کا ترجمہ مع تشریح یہ کی ہے :
...and thy sustainer may well raise thee to a glorious station (in the life to come). ترجمہ کے سلسلہ میں میرا ذوق یہ ہے کہ اس کو خالص لفظی ہونا چاہئے۔ تشریحی ترجمہ مجھے ذاتی طور پر پسند نہیں۔ مگر اسد صاحب نے جگہ جگہ تشریحی ترجمے کئے ہیں۔ مثال کے طور پر ان مع العسر يسرا کا ترجمہ ان الفاظ میں کیا گیا ہے:
Verily, with every hardship comes ease.
اس ترجمہ میں کوئی مزید تشریح درج نہیں ہے۔ اس ترجمہ میں comes کا لفظ تشریحی اضافہ ہے ۔ اس سے آیت کی اصل معنویت متاثر ہو جاتی ہے۔ صحیح لفظی ترجمہ اس طرح ہونا چاہئے: Verily, with every difficulty there is ease. محمد اسد صاحب بنیادی طور پر ایک صحافی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس تفسیر میں وہ گہرائی نہیں جو ایک محقق کے یہاں ملتی ہے۔ مثال کے طور پر یورپ اور امریکہ کے مستشرقین کا ایک اعتراض قرآن پر یہ ہے کہ اس میں تصنیفی یکسانیت نہیں۔ اس میں (incoherent rambling) پائی جاتی ہے ۔ مثلاً کہیں اللہ کا لفظ ہوگا کہیں وہ ، کہیں ہم اور کہیں میں ، کہیں ہم پر اور کہیں مجھ پر۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1992 All issues