Al-Risala · February 1992 · page 34

Verily, with every hardship comes ease.

الرسالہ، فروری ۱۹۹۲، صفحہ ۳۴

اس کا جواب محمد اسد صاحب نے یہ دیا ہے:

These changes are... a linguistic device meant to stress the idea that God is not a person and cannot, therefore, be really circumscribed by the pronouns applicable to finite beings. (Foreword)

یہ جواب مجھے سطحی معلوم ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن میں اس قسم کے فرق کا سبب کوئی الہیاتی مسئلہ نہیں۔ یہ صرف لسانی اسلوب ہے۔ مستشرقین قرآن کو اپنے معروف تصنیفی معیار پر جانچنا چاہتے ہیں۔ حالاں کہ قرآن ایک دعوتی کتاب ہے، اس میں داعیانہ انداز کلام اختیار کیا گیا ہے۔ اور دعوتی کلام یا داعیانہ اسلوب میں اس قسم کا فرق عین مطلوب ہے، کیوں کہ اس سے کلام میں زور اور تاثیر پیدا ہوتی ہے۔

صغیر اسلم صاحب پاکستان سے ۱۹۵۷ میں کیلی فورنیا (امریکہ) آئے۔ اس وقت وہ نوجوان تھے۔ وہ یہاں کی فضا میں عریانیت اور فحاشی کو دیکھ کر پریشان ہوگئے۔ ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ یہاں اپنے ایمان و اخلاق کو کس طرح بچائیں۔ انھوں نے بتایا کہ چودھری محمد علی (سابق وزیر اعظم پاکستان) ان کے رشتہ دار تھے۔ صغیر اسلم صاحب نے چودھری محمد علی صاحب سے اپنی پریشانی کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ قرآن میں ہے کہ نماز آدمی کو فحش اور منکر سے روکتی ہے۔ اس لئے میں تم کو صرف ایک مشورہ دیتا ہوں۔ تم نماز کے پابند بن جاؤ۔ نماز تم کو محفوظ رکھے گی۔ صغیر اسلم صاحب نے اس مشورہ کو پکڑ لیا اور خدا کے فضل سے امریکہ میں ۳۳ سال سے مومن و مسلم بن کر رہ رہے ہیں۔

اس واقعہ کو میں نے سنا تھے میں نے سوچا کہ پاکستان بننے کے بعد اس کے ابتدائی دور میں کیسے کیسے قیمتی لوگ پاکستان کو ملے تھے۔ مگر اسلام پسندوں کی مجنونانہ سیاست کا نتیجہ یہ ہوا کہ پاکستان کے بہترین لوگ استعمال ہونے سے رہ گئے ۔ ان میں سے بہت سے لوگ تو جو وہاں کے خلفشار کو دیکھ کر باہر کے ملکوں میں جاکر رہنے لگے۔ ایک صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ پاکستان بنے ہوئے تقریباً ۴۵ سال ہوگئے۔ مگر پاکستان کو جتنا ترقی کرنا چاہئے تھا وہ نہ کر سکا۔ میں نے کہا کہ سب سے زیادہ ذمہ داری ان نام نہاد اسلام پسندوں پر ہے جو پاکستان بنتے ہی وہاں

‹ Previous page Next page › Contents of February 1992 All issues

Printed page