Al-Risala · February 1992 · page 35

Verily, with every hardship comes ease.

الرسالہ، فروری ۱۹۹۲، صفحہ ۳۵

کے حکم رانوں سے لڑگئے ۔ اگر یہ لوگ عملی سیاست سے الگ رہ کر افراد سازی اور اصلاح معاشرہ کے کام میں لگتے تو آج پاکستان کی تصویر بالکل مختلف ہوتی ۔

ایک صاحب ہندوستان سے امریکہ آئے اور اب یہاں کے شہری ہو کر آرام کے ساتھ رہ رہے ہیں ۔ وہ یہاں ایک سرکاری محکمہ میں ایک اچھے عہدہ پر ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے حکمراں منافق ہیں، وہ سیکولرزم کی باتیں کرتے ہیں اور مسلمانوں کے ساتھ تعصب کا معاملہ کرتے ہیں۔ آپ لوگ ان کے خلاف جہاد کیوں نہیں کرتے ۔ میں نے کہا کہ امریکہ اس سے بڑا منافق ہے ۔ وہ کویت میں صدام کے قبضہ (occupation) کی مذمت کرتا ہے اور اس کو ختم کرنا چاہتا ہے ۔ دوسری طرف یہی امریکہ فلسطین میں یہودیوں کے قبضہ کی حمایت اور سرپرستی کر رہا ہے ۔ اس کے باوجود آپ امریکہ کے ساتھ ایڈجسٹ کر کے یہاں رہ رہے ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ڈبل اسٹینڈرڈہے۔ اپنے لئے آپ ایڈجسٹمنٹ کا اصول پسند کرتے ہیں اور دوسروں کو جنگ اور ٹکر او کا مشورہ دے رہے ہیں ۔

۲۲ نومبر کو صغیر اسلم صاحب کو ایک ڈاکٹر کے پاس جانا تھا۔ میں بھی ان کے ساتھ چلا گیا کہ دیکھوں یہاں کے ڈاکٹروں کے کلینک کیسے ہوتے ہیں۔ واپسی میں ایک مسئلہ پیش آگیا۔ صغیر اسلم صاحب جب اپنی گاڑی میں بیٹھے اور اس کو اسٹارٹ کرنا چاہا تو کوشش کے باوجود وہ اسٹارٹ نہیں ہوئی۔ یہ نئی اسٹرلنگ (Sterling) گاڑی تھی۔ خیال ہوا کہ شاید بیٹری ختم ہو گئی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے وہیں سے انشورنس کمپنی کو ٹیلیفون کیا۔ اس کے صرف آٹھ منٹ بعد ان کا آدمی ایک بڑی گاڑی لے کر آگیا جس میں ٹیلیفون سے لے کر کرین تک ہر چیز موجود تھی ۔ آدمی نے کافی کوشش کی۔ مگر گاڑی اسٹارٹ نہ ہوسکی ۔ آخر کار اس نے کہا کہ اب یہ گاڑی ورک شاپ جائے گی ۔ اس نے اپنے آفس کو ٹیلیفون کر کے گاڑی کو ورک شاپ بھیجنے کا انتظام کیا اور ہم لوگوں کو اپنی گاڑی میں بٹھا کر گھر تک پہنچا دیا۔ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے کہ یہاں کام کرنے کا انداز کیا ہے ۔ یہی وہ سہولتیں ہیں جن کی بنا پر ہندوستان (اور دوسرے ملکوں) کے اکثر ذہین اور تعلیم یافتہ لوگ اپنے ملکوں کو چھوڑ کر مغربی ملکوں میں پہنچ رہے ہیں۔ ہندوستان میں مندر اور مسجد کے جھگڑوں، پراور جلوس اور نعروں

‹ Previous page Next page › Contents of February 1992 All issues

Printed page