Verily, with every hardship comes ease.
الرسالہ، فروری ۱۹۹۲، صفحہ ۳۶
کے ہنگاموں پر کروڑوں لوگ سرگرم ہیں ۔ حتی کہ اپنا جان و مال تباہ کر رہے ہیں ۔ مگر ملک میں کار کردگی کا اعلی ماحول بناانے کے لئے کوئی سرگرم نہیں ہوتا۔
ایک تاجر کے دفتر میں میں نے دیکھا کہ ایک امریکی خاتون بطور سکریٹری کام کر رہی تھی ۔ میں نے پوچھا کہ آپ کے تجربہ میں کس ملک کے ورکر سب سے اچھے ہوتے ہیں ۔ انھوں نے فوراً کہا کہ جاپانی۔ انھوں نے کہا کہ جاپانی ورکر نہایت وفادار ، نہایت محنتی اور نہایت دیانتدار ہوتا ہے ۔ یہاں ہر آفس والا جاپانی ورکر کو پسند کرتا ہے ۔ مگر جاپان کے لوگ زیادہ ٹریڈنس کے لئے آتے ہیں ۔ وہ ملازمتوں کے لئے کم آتے ہیں ۔
انھوں نے مزید بتایا کہ ایک ٹیلیویژن پرو گرام میں انھوں نے دیکھا کہ جاپان میں ورکروں کی تربیت کے لئے بڑی بڑی تنظیمیں بنی ہوئی ہیں ۔ وہاں بہت سے ادارے ہیں جو نہایت اعلی پیمانہ پر تربیت دے کر اپنے افراد کے اندر وہ صفات پیدا کرتے ہیں جس کے بعد وہ بہترین کارکن بن سکیں ۔ میں نے سوچا کہ ہندوستان کے نام نہاد مسلم لیڈر اگر صرف یہ کرتے کہ وہ ایسے ادارے قائم کریں جو مسلمانوں کو تربیت دے کر عمدہ کارکن بنائیں تو آج مسلمان ملک کی غالب کمیونٹی کا مقام حاصل کر لیتے ۔ مگر ان نااہل لیڈروں نے مسلم عوام کو جذباتی نعروں پر دوڑا کر صرف ان کی بربادی کا کارنامہ انجام دیا ہے ۔
صغیر اسلم صاحب ان مستثنی افراد میں سے ہیں جو اپنی فطرت پر قائم رہتے ہیں ۔ مثلاً ان کے ساتھ اشتعال انگیزی کی جائے تب بھی وہ مشتعل نہیں ہوتے ۔ ایک بار ایک صاحب ان پر غصہ ہو گئے اور مجمع کے اندر انھیں برا بھلا کہنے لگے ۔ وہ صاحب نہایت سخت الفاظ بول رہے تھے ، مگر صغیر اسلم صاحب انھیں کوئی جواب نہیں دے رہے تھے ۔ ایک شخص نے کہا کہ وہ آپ کے ساتھ اتنی سخت کلامی کر رہے ہیں اور آپ اس کے جواب میں کچھ نہیں بولتے ۔ صغیر اسلم صاحب کا مختصر جواب یہ تھا : یہ ان کا پر ابلم ہے ، میرا پر ابلم تو نہیں ۔ ہر آدمی پیسہ کمانا چاہتا ہے ۔ اس اعتبار سے ہر ملک کو تجارتی ملک ہے ۔ مگر امریکہ میں تجارت گویا ایک خوب صورت فن بن دیا گیا ہے ۔ مثال کے طور پر بچوں کی چیزوں کے نام پر بے شمار تجارتیں وجود میں آئی ہیں ۔ انھیں میں سے ایک بچوں کا لٹریچر ہے۔ بچوں کے
‹ Previous page Next page › Contents of February 1992 All issues