Al-Risala · February 1992 · page 37

The largest national debt is that of the US

الرسالہ، فروری ۱۹۹۲، صفحہ ۳۷

لئے کتابیں اتنے خوب صورت اور اتنے معیاری انداز میں چھاپی جاتی ہیں کہ ماں باپ اس کو خریدنے کے لئے مجبور ہو جائیں۔

مثلا ایک کتاب نظر گزری ۔ ۔ ۷۳ صفحہ کی اس خوب صورت کتاب کا نام تھا۔ مجھ کو بتاؤ کہ کیوں (Tell Me Why) نام کے نیچے یہ الفاظ درج تھے:

Brief, accurate answers to hundreds of questions children ask about. میں نے اس کے مختلف حصے پڑھے۔ کتاب اپنے نام کے عین مطابق تھی اردو میں میں نے اس طرح کی کئی کتابیں دیکھی ہیں۔ مگر ان میں معلومات کم اور ادبیت زیادہ ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ معلومات متعین اور محدود انداز میں نہیں ہوتیں۔ مذکورہ کتاب کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ انتہائی سادہ اور انتہائی محدود اسلوب میں لکھی گئی تھی ۔ البتہ انواع حیات سے متعلق معلومات میں جگہ جگہ نظریہ ارتقاءء شامل تھا جس سے مجھے اتفاق نہیں۔ میں ارتقا کو محض ایک مفروضہ سمجھتا ہوں نہ کہ کوئی واقعی حقیقت۔

ایک رپورٹ عالمی اقتصادیات کے بارہ میں دیکھی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ ۱۹۸۶ میں امریکہ کے اوپر قومی قرضہ ۲۱۱۲ ملین ڈالر تھا۔ اس لحاظ سے امریکہ وہ ملک ہے جس کے اوپر سب سے زیادہ قومی قرضہ ہے:

The largest national debt is that of the US

میں نے امریکہ کے ایک معاشی عالم سے اس کا ذکر کیا۔ اس نے کہا کہ ہمارے قرضہ کی وہ نوعیت نہیں ہے جو تیسری دنیا کے قرضہ کی ہوتی ہے ۔ تیسری دنیا کے ملک اقتصادی مدد کے طور پر قرض لیتے ہیں۔ اور کئی ملکوں کا یہ حال ہے کہ وہ اس کی قسط بھی ادا نہیں کر سکتے۔ چنانچہ اس کی قسط کی ادائیگی کے لئے دوبارہ قرض لینا پڑتا ہے ۔ اس کے برعکس امریکہ جو قرض لیتا ہے وہ پیداواری مقصد کے لئے لیتا ہے ، جیسے ایک کمپنی بینک سے قرض لے کر اپنا کاروبار بڑھاتی ہے۔ چنانچہ امریکہ اگر سب سے بڑا مقروض ملک ہے تو اس سے سے زیادہ بڑی بات یہ ہے کہ قومی پیداوار (National product) کے معاملہ میں وہ تمام دنیا کے ملکوں سے بڑھا ہوا ہے:

‹ Previous page Next page › Contents of February 1992 All issues

Printed page