Al-Risala · February 1992 · page 1

The largest national debt is that of the US

الرسالہ، فروری ۱۹۹۲، صفحہ ۱

اور استعجاب کا احساس ہے ۔ آدمی کے اندر بے پناہ گہرائی کے ساتھ یہ جذبہ چھپا ہوا ہے کہ وہ کسی ایسی چیز کو دیکھے جو غیر معمولی حد تک عظیم ہو تو اس کی عظمت کے احساس سے سرشار ہو جائے ۔ اسی احساس کا ایک نتیجہ فطرت پرستی اور ہیرو پرستی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے ۔

انسان کے اندر یہ شعور اس لئے رکھا گیا تھا کہ وہ خدائے ذوالجلال کو پہچانے اور اس کے آگے اپنی عبدیت کا اظہار کرے ۔ یہی " الہ " کا مطلب ہے ۔ لا الہ الا اللہ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نے اپنے احساس کو دوسری تمام سمتوں سے ہٹا کر ایک خدا کی طرف موڑ لیا۔ شرک کی تمام صورتیں دراصل اسی احساس کا غلط استعمال ہیں ۔

ایک صاحب یہاں کے " اردو داں مسلمانوں " کی دعوت پر امریکہ آئے تھے ۔ یہاں انھوں نے اپنے ہم وطنوں کے درمیان تقریریں کیں ۔ ان کا ایک کیسٹ سننے کا اتفاق ہوا ۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ دعوتی کام ، جس کو یہاں دعوہ ورک (Daw'ah work) کہا جاتا ہے ۔ وہ محدود معنوں میں ایک اچھا کام ہو سکتا ہے ۔ مگر یہی اصل اسلامی کام نہیں ۔ اصل کام ہے نظام کو بدلنا۔ ہم ایک مکمل انقلاب لانے کے علمبردار ہیں ۔ اور مکمل انقلاب جہاد و قتال کے بغیر کبھی نہیں آتا ۔ ہمارا نشانہ یہ ہے کہ انقلابی جد و جہد کے ذریعہ امریکہ میں اور اسی طرح سارے عالم میں مکمل اسلامی حکومت قائم ہو جائے ۔

اس قسم کی باتوں کا تعلق اسلام سے تو کیا ہو گا ۔ ان کا عقل سے بھی کوئی تعلق نہیں ۔ نہ یادد سے زیادہ اس کو ایک قسم کی سیاسی شاعری کہا جا سکتا ہے ۔ مصر اور پاکستان کے اسلام پسندوں نے اسی قسم کی سیاسی شاعری میں پچاس قیمتی سال ضائع کر دئے ۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ مسلمانوں کی پیرانوئک (paranoiac) نفسیات ہے جس کی بنا پر ایسے مقرروں کو کچھ سامعین مل جاتے ہیں ۔ ایسا نہ ہو تو اس قسم کے لوگوں کو حقائق کی اس دنیا میں کوئی سننے والا اور پڑھنے والا ملے ۔

قرآن وسنت کے مطابق اسلام کا اصل کام دعوتی کام ہے ۔ دعوتی کام سے مراد کوئی سطحی کام نہیں ، اس سے مراد افراد کے اندر ذہنی انقلاب لانا ہے ۔ اسلام کا اصل مقصد یہ ہے

‹ Previous page Next page › Contents of February 1992 All issues

Printed page