اصل سبب
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۳، صفحہ ۱۰
اصل سبب
اس المیہ کا سبب انگریز نہیں بلکہ خود ہندوستانی ہیں۔ اصل یہ ہے کہ ۱۹۴۷ سے پہلے اس ملک میں جو مسئلہ تھا وہ انگریزوں اور ہندوستانیوں کے درمیان تھا۔ اس وقت اس مسئلہ کے حل کی صورت یہ تھی کہ ہندوستانیوں کے دل میں انگریزوں کے خلاف نفرت پیدا کی جائے۔ فارمولایہ تھا کہ ہندوستانی جتنا زیادہ انگریز سے متنفر ہوں گے اتنا ہی زیادہ انگریزوں کی جڑ اس ملک سے اکھڑے گی اور وہ اس ملک میں حکومت کرنے کے مواقع کھو دیں گے۔
نفرت کی اس فضا کو پیدا کرنے کے لیے ہر قسم کے ذریعے اختیار کیے گئے۔ ۔حتی کہ انگریزوں کے اچھے کام کو بھی بری صورت میں پیش کیا گیا۔ مثلاً انگریزوں نے بٹوارہ سے پہلے ہندوستان میں ۲۵ ہزار میل لمبی ریلوے لائن بچھائی۔ اس ریلوے نظام نے پہلی بار ملک میں اس سرے سے اُس سرے تک کے سفر کو آسان بنا دیا۔ مگر جواہر لال نہرو نے اس مثبت کام میں بھی منفی پہلو تلاش کر لیا۔ انھوں نے کہا: ریلوے کی لوہے کی پٹریاں دراصل لوہے کی زنجیریں ہیں جو انگریزوں نے اس لیے بچھائی ہیں تاکہ ہندوستانیوں کو پوری طرح غلامی میں جکڑ دیں۔
اس طرح نفرتوں کے ماحول میں آزادی کا سفر طے ہوا۔ اس زمانہ میں انگریزوں کے خلاف نفرت سے بھری ہوئی تقریر کرنے پر آدمی کو لیڈری ملتی تھی۔ انگریز کے اوپر گولی چلانے۔ آدمی ہیرو بن جاتا تھا۔ اس وقت انگریز دشمنی ملک دوستی کے ہم معنی بنی ہوئی تھی۔ ۱۹۴۷ء سے پہلے کا دور گویا تخریب کا دور تھا۔ اس زمانہ میں نفرت اور مخالف کی سیاست بہت کار آمد ثابت ہوئی۔ ۱۹۴۷ء کے بعد تعمیر کا دور آگیا۔ اب محبت سیاست کی اہمیت پیدا ہوگئی۔ مگر مخصوص اسباب کی بنا پر نئے دور میں بھی نفرت کی سیاس جاری رہی۔ وہ محبت کی سیاست میں تبدیل نہ ہو سکی۔ یہی سب سے بڑا سبب ہے جس بنا پر آزادی کے بعد وہ ہندوستان نہ بن سکا جس کا خواب آزادی سے پہلے دیکھا گیا تھا۔ اور کے بہانے تصور میں ہر آدمی سرشار رہتا تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1993 All issues