Al-Risala · January 1993 · page 4

نیا ہندوستان

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۳، صفحہ ۴

ں جا جاکر آباد ہو گئے ۔ حتیٰ کہ یہ کہنے میں فخر محسوس کرنے لگے کہ وہ اور ان کے بچے اب د کے (برطانیہ) میں شل ہو گئے ہیں۔

آزادی سے پہلے ہمارے لیڈر تمام ملکی مسائل کا ذمہ دار انگریز کو ٹھہراتے تھے مگر جب زادی آئی اور ملکی راج قائم ہوا تو مسائل ختم نہیں ہوئے ۔ بلکہ برعکس طور پر مسائل میں پہلے سے بھی زیادہ اضافہ ہو گیا۔

یہاں میں اپنا ایک ذاتی کاتجر بہ بیان کروں گا۔ میری پیدائش 1925 میں ایک ایسے خاندان میں ہوئی، جہاں آزادی کا چرچا تھا۔ ماحول میں بھی ہر طرف آزادی کی باتیں گونج رہی تھیں۔ اس کے اثر سے میرے اندر یہ ذہن بنا کہ غلامی سب سے زیادہ بری چیز ہے، اور آزادی سب سے زیادہ اچھی چیز ہے۔ بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح میرے ذہن میں بھی آزادی کی تحریک کا یہ معصومانہ تصور قائم ہوا کہ آزادی کی تحریک گویا ملک کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کرنے کی تحریک ہے۔

ان احساسات کے ساتھ میں آزادی کے دن کا منتظر تھا۔ یہاں تک کہ انتظار پورا ہوا اور 15 اگست ، 1947 کی تاریخ آگئی۔ اس وقت میری عمر 22 سال تھی، اور میں یوپی کے شہر اعظم گڑھ میں تھا۔ مجھے یاد ہے کہ رات کو میں گھر سے باہر نکلا۔ ہر طرف گھروں اور دکانوں کے اوپر خوشیوں کے چراغ جل رہے تھے۔ میں اس احساس کے ساتھ سڑک پر چل رہا تھا کہ آج میں آزاد ہوں۔ میرا حال یہ تھا کہ خوشی سے زمین پر پاؤں نہیں پڑ رہے تھے۔ خوشی سے زمین پر پاؤں نہ پڑنا“ میں نے ادب کی کتابوں میں پڑھا تھا، مگر اس کا عملی تجربہ پہلی بار 15 اگست ، 1947 کو ہوا۔ یہی آخری بھی تھا۔ کیوں کہ اس کے بعد پھر کبھی مجھے اس قسم کی خوشی تجربہ نہ ہو سکا۔

یہ 15 اگست کی شب کی بات تھی۔ مگر جب صبح ہوئی تو تمام چراغ بجھ چکے تھے، اور پھر ابھی نہیں جلائے گئے ۔ آزادی کا انتظار ہم سب کے لیے بہت خوش کن تھا، مگر آزادی اپنا ہمارے لیے خوشی کا باعث نہ بن سکا۔ آزادی کا خواب ، تعبیر ظاہر ہونے کے بعد بھی، بے تعبیر خواب بنا ہوا ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1993 All issues

Printed page