Al-Risala · January 1993 · page 11

اکثریت اور اقلیت

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۳، صفحہ ۱۱

اکثریت اور اقلیت

یہ ایک تاریخی واقعہ ہے کہ وہ کمیونٹی جو نیکسٹ ٹو میجارٹی ہو وہ ہمیشہ مجاریٹی کی زد میں رہتی ہے۔ چھوٹی اقلیتیں آؤٹ آف فوکس ہو جاتی ہیں۔ اور پہلے اور دوسرے نمبر کی کمیونٹی ایک دوسرے کے مقابلہ پر آجاتی ہے۔ آزاد ہندوستان میں یہی ہوا۔ چنانچہ آزادی کے بعد ہندو اور مسلمان دونوں ایک دوسرے کے بالمقابل ہو گئے ۔ پہلے اگرا ملک میں ہندوستانی اور انگریز کا مسئلہ تھا توہم اب ملک میں ہندو اور مسلمان کا مسئلہ پیدا ہو گیا۔ مگر دونوں میں ایک فرق تھا۔ ہندوستانی اور انگریز کے مسئلہ میں نفرت مطلوب تھی ، جبکہ ہندو اور مسلم مسئلہ میں محبت مطلوب ہو گئی۔ پہلے اگر باہمی نفرت سے مسئلہ حل ہوتا تھا تو اب باہمی محبت مسئلہ کا حل بن گیا۔ اس نازک موڑ پر ہمارے رہنما وہ کردار ادا نہ کر سکے جو ضروری تھا۔ چنانچہ ۱۹۴۷ء کے بعد بھی ملک میں نفرت کا تسلسل جاری رہا، اور مسئلہ دن بدن نازک سے نازک تر ہوتا چلا گیا۔

اس معاملہ میں جاپان کی جدید تاریخ نہایت اعمل مثال پیش کرتی ہے۔ دوسری عالمی جنگ سے پہلے جاپانی قوم امریکی نفرت کی بنیاد پر اٹھی۔ اسی نفرت کے تحت جاپانیوں نے امریکہ کے بحری اڈہ پرل ہاربر پر دسمبر ۱۹۴۱ء میں زبردست حملہ کیا اور اس کو تباہ کر دیا۔ اس کے بعد دونوں کے درمیان شدید جنگ جاری رہی۔ جو بالآخر ۱۹۴۵ء میں جاپان کی شکست و مغلوبیت پر ختم ہوئی۔

اب ایک صورت یہ تھی کہ امریکی نفرت کا تسلسل جاپان میں جاری رہے۔ مگر جاپان کے برین نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی قومی پالیسی کو نفرت کے بجائے محبت پر قائم کریں۔ انھوں نے اپنی قوم کو سمجھایا کہ امریکہ نے اگر ایٹم بم گر کر ہمارے ہیروشيما کو برباد کیا تو بھی اس سے پہلے امریکہ کے پرل ہاربر کو برباد کر چکے تھے۔ اس لیے معاملہ برابر ہو گیا۔ آؤ، امریکہ سے دوستی کا تعلق قائم کر کے ہم اپنے ملک میں نئے تعمیری دور کا آغاز کریں۔ نفرت کے بجائے محبت کی اس پالیسی کو انھوں نے علیٰ معکوس (reverse course) م دیا۔ دوسری عالمی جنگ سے پہلے جاپان جن قوموں سے ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کیے ہوئے تھا،

‹ Previous page Next page › Contents of January 1993 All issues

Printed page