اکثریت اور اقلیت
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۳، صفحہ ۱۲
اب جاپان انھیں قوموں سے موافقت کر کے آگے بڑھنے لگا۔ یہی تبدیلی تھی جس کا تذکرہ آج دنیا کے سامنے اس شکل میں سامنے آیا ہے کہ جو جاپان دوسری عالمی جنگ سے شکست کھا کر نکلا تھا، اس کو آج یہ موقع مل رہا ہے کہ وہ فاتح کے روپ میں دنیا کے سامنے نمایاں ہو سکے۔
آزادی کے بعد ہندوستان میں بھی اسی قسم کے عمل معکوس کی ضرورت تھی۔ اب ضرورت تھی کہ اس ملک میں نفرت کے بجائے محبت کی ہوائیں چلائی جائیں۔ مگر ہمارے لیڈر بروقت یہ کام نہ کر سکے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ یہاں نفرت کا تسلسل جاری رہا۔ ملک تعمیر کے رخ پر سفر نہ کر سکا، آزاد ہندوستان جلد ہی برباد ہندوستان کے ہم معنی بن گیا۔
جاپان نے اپنے بیرونی دشمن امریکہ سے نفرت کو چھوڑ کر محبت کا طریقہ اختیار کیا تھا۔ ہندوستان میں یہی کام ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ہونا تھا۔ یہاں بٹوارہ کی تحریک کے دوران دونوں ایک دوسرے کے رقیب اور حریف بن گئے تھے۔ اب ضرورت تھی کہ دونوں کے اندر یہ ذہن پیدا کیا جائے کہ وہ ایک دوسرے کے وطنی بھائی ہیں۔ وہ ہر معاملے میں ایک دوسرے کے شریک اور دوست ہیں۔
۱۹۴۷ء سے پہلے کچھ نادان مسلم لیڈروں نے غلط طور پر یہ ذہن بنایا تھا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں۔ اس نظریہ نے دونوں میں دوری پیدا کر دی۔ مگر اس نظریہ کا تعلق نہ عقل سے تھا اور نہ اسلام سے۔ کیونکہ قوم وطن سے بنتی ہے نہ کہ مذہب سے۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کا مذہب بلاشبہ الگ ہے۔ مگر وہ دونوں ایک قوم ہیں، کیوں کہ دونوں ایک مشترک وطن میں رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تمام پیغمبروں نے اپنے غیر مذہب مخاطبین کو (اے میری قوم) کہہ کر خطاب کیا۔ مگر، ۱۹۴۷ء کے بعد طاقت ور انداز میں اس فکر کی اشاعت نہ کی جا سکی۔
جہاں تک میرے مطالعہ کا تعلق ہے، میرا خیال ہے کہ اس معاملہ میں ہندو اور مسلما دونوں برابر کے ذمہ دار ہیں۔ دونوں میں سے کسی نے بھی نئے ہندوستان میں اپنی ذمہ داریا کو پورا نہیں کیا۔ قوموں کا ذہین طبقہ قوموں کو رہ نمائی دیتا ہے۔ مگر آزاد ہندوستان
‹ Previous page Next page › Contents of January 1993 All issues