Al-Risala · March 1993 · page 16

تین قسم

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۳، صفحہ ۱۶

تین قسم

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ انسان تین قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک ، ربانی عالم۔ دوسرے، وہ جو نجات کے راستہ کا طالب ہو۔ تیسرے، وہ ناکارہ اور پست لوگ جو ہر زور سے بولنے والے کے پیرو بن جائیں (الناس ثلاثة - عالم ربانی - ومتعلم على سبيل نجاة۔ وهمج رعاع اتباع كل ناعق) لسان العرب ۴۰۴/۱ عالم ربانی وہ ہے جو اپنے رب کو پاگیا ہو اور اس کی زندگی میں وہ اوصاف پیدا ہوگئے ہوں جو رب العالمين کی معرفت سے ایک آدمی کے اندر پیدا ہونے چاہئیں۔ دوسرا شخص وہ ہے جو سچا متعلم ہو۔ سچا متعلم بے فائدہ باتوں میں اپنا دماغ نہیں الجھاتا۔ وہ نجات اور فلاح کا متلاشی ہوتا ہے۔ اور اس تلاش میں اپنی پوری توجہ لگا دیتا ہے۔ یہ دونوں قسم کے لوگ صحیح انسانی راستہ پر ہیں۔ وہ اپنے راستہ سے بھٹکتے نہیں۔ وہ وہی سوچتے ہیں جو انہیں سوچنا چاہیے، اور وہی کر رہے ہیں جو انہیں کرنا چاہیے۔ اس کے بعد وہ لوگ ہیں جو حقیقت کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ وہ ایک بات اور دوسری بات کا فرق نہیں جانتے۔ وہ سچے کلام اور جھوٹے کلام میں تمیز نہیں کر سکتے۔ ان کے نزدیک اہمیت کی بات یہ نہیں ہوتی کہ کون شخص حق کی طرف بلاتا ہے۔ اس کے بجائے ان کے یہاں ساری اہمیت اس کی ہوتی ہے کہ کون زیادہ زور سے چیختا ہے۔ کون زیادہ شاندار کلام کا مظاہرہ کرتا ہے۔ کون زیادہ بڑے بڑے الفاظ بولنے کا کرتَب دکھا رہا ہے۔ انسان کی یہ تینوں قسمیں پہلے بھی پائی جاتی تھیں۔ مگر موجودہ زمانہ میں مزید شدت سے وہ پائی جارہی ہیں خاص طور پر تیسری قسم کے انسان کی مثال موجودہ زمانہ میں عام ہوگئی ہے۔ اس کا ایک خاص سبب پریس ہے۔ پریس کے دور نے اس قسم کے لوگوں کو یہ موقع دے دیا ہے کہ وہ پست اور ناکارہ ہونے کے باوجود غوغا ئی عمل کرکے شہرت حاصل کرلیں ۔ اور پھر عوام کی بھیڑ اپنے گرد جمع کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔

حضرت علی کا قول موجودہ حالات پر مزید اضافہ کے ساتھ چسپاں ہوتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1993 All issues

Printed page