Al-Risala · January 1993 · page 13

اکثریت اور اقلیت

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۳، صفحہ ۱۳

نوں ہی فرقے کے ذہین طبقے اس اعتبار سے ناکام ہو گئے۔

ہندوؤں میں ان کے مصنوعی دانشور (pseudo-intellectuals) اٹھے۔ انھوں نے فرسٹ ڈیفیٹ اور سیکنڈ ڈیفیٹ کا نظریہ پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ ہندو اکھنڈ بھارت بنانا چاہتے تھے، اور مسلمان تقسیم کا مطالبہ کر رہے تھے۔ مگر اس معاملہ میں ہندوؤں کو شکست تسلیم کرنی پڑی۔ یہ ان کے لیے پہلی ہار (فرسٹ ڈیفیٹ) تھی۔ اب ہندو اکثریت میں ہیں اور غلبہ کی حیثیت رکھتے ہیں، اس لیے ہمیں کسی قیمت پر دوسری ہار (سیکنڈ ڈیفیٹ) کو تسلیم نہیں کرنا چاہیے ۔

یہ بات مختلف الفاظ میں اتنے زور کے ساتھ کہی گئی کہ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر بیشتر ہندوؤں کے ذہن پر چھا گئی۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان کوئی نز اع پیش آئے تو ہندو فوراً اس کو سیکنڈ ڈیفیٹ کا مسئلہ سمجھ لیتے ہیں۔ مثلاً ہندو جلوس مسلم محلے سے گزرے اور مسلمان کسی وجہ سے روٹ بدلنے کے لیے کہیں تو ہندو اس بات کو نہیں مانیں گے۔ کیوں کہ مذکورہ نفسیات کی بنا پر اس میں انھیں سیکنڈ ڈیفیٹ نظر آنے لگتی ہے۔ اس نفسیات کی بنا پر ہندوؤں کی طاقت کا بڑا حصہ صرف منفی کارروائیوں میں صرف ہوا ہے، وہ ملک کی مثبت تعمیر میں استعمال نہ ہو سکا۔ سیکنڈ ڈیفیٹ سے بچنے کی کوشش میں وہ مکمل ڈیفیٹ سے دوچار ہو رہے ہیں۔

مولانا حفظ الرحمن صاحب (۱۹۶۲-۱۹۰۱) نے ایک بار کہا تھا کہ انڈیا کو میں سیکولر ملک اس وقت مانوں گا جب کہ سڑک پر ایک مسلمان ایک ہندو کو تھپڑ مارے اور شہر میں فرقہ وارانہ فساد نہ ہو۔ ہر بار جب کوئی فرقہ وارانہ فساد ہوتا ہے تو اسی طرح کے کسی معمولی واقعہ کی بنا پر ہوتا ہے۔ ایسا ہر واقعہ اصلاً صرف دو فرد کا واقعہ ہے، اور دو فرد کے مسئلہ کی حیثیت سے اسے حل کرنا چاہیے۔ مگر جب بھی ایسا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو فوراً وہ دو فرقوں کے وقار کا مسئلہ بن جاتا ہے جو بڑھ کر خونیں فساد تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ تمام تر اسی مذکورہ نفسیات کا نتیجہ ہے ۔

ہندو اگر بٹوارہ کو فرسٹ ڈیفیٹ کے طور پر نہ لیتے بلکہ گزرے ہوئے دور کا ایک

‹ Previous page Next page › Contents of January 1993 All issues

Printed page