Al-Risala · March 1993 · page 17

ذہنی تربیت

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۳، صفحہ ۱۷

ذہنی تربیت

اسلام سے پہلے کے دور کو جاہلیت کا دور کہا جاتا ہے۔ جاہلیت سے مراد جہالت نہیں ہے بلکہ اس سے مراد بے خبری ہے۔ اسلام کے ظہور سے پہلے عرب کے لوگ بے خبری کے دور میں تھے، اسلام نے ان کو باخبری کے دور میں پہنچا دیا۔ اسلام سے پہلے وہ بے شعوری کی حالت میں زندگی گزار رہے تھے۔ اسلام نے ان کی ذہنی تربیت کر کے انھیں اس قابل بنایا کہ وہ شعور زندگی گزار سکیں ۔

اس معاملہ کی ایک مثال یہ ہے کہ اسلام سے پہلے عرب کے لوگ لڑنے بھڑنے کو کمال سمجھتے تھے۔ چنانچہ وہ اکثر لڑتے رہتے تھے۔ حتی کہ صحیح اور غلط، ایکنے اور غیر کی تفریق کے بغیر انہوں نے لڑنے کو بذات خود اپنا مقصود بنا لیا تھا۔ ایک جاہلی شاعر فخر کے ساتھ کہتا ہے کہ کبھی ہم خود اپنے بھائی بنو بکر پر حملہ کر دیتے ہیں جبکہ لڑنے کے لیے کوئی دوسرا موجود نہیں ہوتا : و أحياناً علي بكر أخينـا اذا مـالم نجـد إلا أخـانـا اسلام نے ان کی ذہنی اور فکری تربیت کر کے ان کے اندر یہ صلاحیت پیدا کی کہ وہ اپ اور دوسرے میں فرق کریں۔ وہ حق کے پرستاروں اور حق سے بغاوت کرنے والوں کے درمیان تمیز کریں۔ یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں ان لفظوں میں بتایا گیا کہ وہ : کفار پر سخت اور آپس میں نرم ہیں (اشداء علی الکفار رحماء بینھم) الفتح ۲۹ قرآن کی اس آیت کی تشریح شاہ عبدالقادر صاحب نے مختصر طور پر اس طرح کی ہے جو تندی اور نرمی اپنی خو ہو، وہ سب جگہ برابر چلے۔ اور جو ایمان سے نور کم آئے، وہ تندی اپنی جگہ اور نرمی اپنی جگہ۔

یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام کس طرح آدمی کے ذہن کی تربیت کرتا ہے اور اس کے مزاج کو منفی رخ سے مثبت رخ کی طرف موڑ دیتا ہے۔ اسلام آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ صحیح اور غلط کے فرق کو سمجھے۔ وہ یہ جانے کہ کہاں بولنا ہے اور کہاں چپ رہنا ہے، کہاں لڑنا ہے اور کہاں برداشت کرنا ہے۔ کہاں اقدام کرنا ہے اور کہاں یہ کوشش کرنا ہے کہ اقدام کی نوبت نہ آئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1993 All issues

Printed page