اکثریت اور اقلیت
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۳، صفحہ ۱۴
واقعہ سمجھ کر اس کو ماضی کی تاریخ کے خانے میں ڈال دیتے تو ۱۹۴۷ سے اسی طرح ملک کی تاریخ بننا شروع ہو جاتی جس طرح عین اسی زمانے میں جاپان میں نئی تاریخ بننا شروع ہوئی تھی فرسٹ ڈیفیٹ اور سیکنڈ ڈیفیٹ کے فلسفہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ امکان واقعہ کی صورت اختیار کر اقلیت کے مسئلے کے حل کے لیے ہندو رہنماؤں نے جو تدبیر سوچی وہ بظاہر ہر جگہ چتھا الفاظ میں تھی، مگر سب کی تدبیر عملاً وہی تھی جس کو ان کا ایک حلقہ ہند تو یا انڈینائزیشن تعبیر کرتا ہے۔ اس تدبیر کا خلاصہ یہ ہے کہ ہندوستان سے کلچر کے اختلاف کو ختم کر کے پورے ملک کا ایک کلچر بنا دیا جائے ۔ اس کو وہ فرقہ وارانہ یک جہتی یا ملکی اتحاد کا ذریعہ سمجھتے ہیں کا خیال ہے کہ اس طرح اقلیت کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔
یہ تجویز بظاہر کتنی ہی خوب صورت ہو، وہ یقینی طور پر ناقابل عمل ہے۔ سب پہلے شہنشاہ اکبر نے اس کو ملک میں رائج کرنا چاہا مگر غیر معمولی سیاسی طاقت - کےباوجود وہ ناکام رہا۔ ڈاکٹر بھگوان داس نے ۲۰ سال محنت کر کے اپنی کتاب تیار کی۔ (Essential Unity of All Religions) مگر اپنے مقصد میں وہ کہ درجہ میں کارگر ثابت نہ ہو سکی۔ مہاتما گاندھی بھی " رام رحیم ایک ہے" کے عنوان سے اس مبلغ تھے مگر انھیں بھی اس سلسلہ میں کوئی قابل ذکر کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ امریکہ (U.S.A) میں بھی مختلف کلچر کے لوگ آباد ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے امریکہ میں وہ تحریک چلی جس کو عام طور پر امریکنائز یشن کہا جاتا ہے۔ اس کا مقصد امریکہ میں کلچر کو فروغ دینا تھا۔ مگر یہ تحریک امریکہ میں مکمل طور پر نا کام ہو گئی۔ اور اب وہاں یونی کا کے بجائے ملٹی کلچر لزم کے اصول کو اختیار کر لیا گیا ہے۔ یعنی ایک کلچر نہیں بلکہ کئی کلچر۔ نتیجہ کے اعتبار سے دیکھے تو اس معاملہ میں ہمارے لیے انتخاب (choice یونی کلچر اور ملٹی کلچر میں نہیں ہے، بلکہ ملٹی کلچر اور تباہی میں ہے۔ اگر ہم یونی کلچر کے طر اصرار کریں تو جو چیزعملاً حاصل ہوگی وہ یونی کلچر نہ ہوگا بلکہ بر باد کلچر ہوگا ۔ اس لیے بہترین تا یہ ہے کہ ہم رواداری (ٹالرنس) کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے ملٹی کلچر کے طریقہ پر راضی ہو جا نہ کہ یونی کلچر کے طریقہ پر اصرار کر کے ملک کو تباہ کر دیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1993 All issues