سفر نامه ۔ ۲
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۳، صفحہ ۳۱
سفر نامه ۔ ۲
حق کی حیثیت یہی ہے ۔ دعوتِ حق لوگوں کو جہنم سے بچاکر جنت میں داخل کرنا چاہتی ہے۔ مگر موجودہ زمانہ کے سلفی مفکرین نے دعوت کو بھی چھیننے کا ایک معاملہ بنا دیا ہے۔ انھوں نے دعوت کی تعبیر سیاست کے انداز میں کی ۔ انھوں نے دعوت کا مطلب یہ بتایا کہ اقتدار پر قبضہ کر کے اسلامی قانون کو زمین پر نافذ کیا جائے ۔ دعوتِ اسلامی کی یہ تعبیر مجرمانہ حد تک غلط ہے۔ اس کے نتیجہ میں داعی اور مدعو کے درمیان غیر ضروری سیاسی نزاع قائم ہوگئی ۔ وہ ربانی مہم جو دراصل دینے کی مہم تھی ، وہ بالکل غلط طور پر چھینے کی مہم بن کر رہ گئی ہے۔
عربوں کی ایک مجلس میں مسلمانوں کے کردار پر گفتگو ہورہی تھی ۔ لوگ کہہ رہے تھے کہ موجودہ مسلمانوں میں کردار کی بہت کمی ہوگئی ہے ، اس لئے ان کے درمیان کوئی بڑی مہم کامیاب نہیں ہوتی۔ میں نے کہا کہ کردار ، کردار کہنے سے کردار پیدا نہیں ہوا ۔ جس طرح درخت ، درخت کہنے سے درخت نہیں اگتا ۔ درخت بیج بونے سے پیدا ہوتا ہے ۔ یہی انسانی کردار کا معاملہ بھی ہے ۔ انسانی کردار کا ایک بیج ہے ، اور وہ بیج مقصد ہے ۔ مقصد کا شعور ہی آدمی کے اندر وہ اعلیٰ اوصاف پیدا کرتا ہے جس کو کردار کہا جاتا ہے ۔ میں نے کہا کہ مقصد جتنا زیادہ بڑا ہوگا ، کردار بھی اتنا ہی بڑا بنے گا ۔ موجودہ مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ انھوں نے مقصد کا احساس کھودیا ہے، اس لئے وہ کردار بھی کھوئے ہوئے ہیں :
بقدر ما يكون الهدف عظيماً فسوف تكون الأخلاق عظيمة ۔ ان أكبر مشكلة في المسلمين المعاصرين أنهم قد فقدوا الهدف العظيم لهذ أفهم قد فقدوا الأخلاق العظيمة ایک مجلس میں میں نے کہا کہ آجکل مسلمانوں کے جس اجتماع میں جائیے یا جس مجلس میں بیٹھے، ہرجگہ " اعداء اسلام" کے بارہ میں باتیں سننے کو ملتی ہیں ۔ میرے نزدیک یہ طرزِ فکر سطحی بھی ہے اور خلافِ اسلام بھی ۔ اگر موجودہ صورتِ حال کو خالص عقلی اعتبار سے دیکھا جائے تو مسلمانوں کے ساتھ اس وقت جو کچھ ہورہا ہے وہ ان کی اپنی کمزوریوں کا نتیجہ ہے ۔ اور اگر اس کو دینی اعتبار سے جانچا جائے تو یہ خدا کی طرف سے انتباہ ہے تاکہ مسلمان جاگیں اور اپنی دینی کو تاہیوں کو دور کریں ۔ مگر ان چیزوں کو اعدادِ اسلام کے خانہ میں ڈالنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ موجودہ صورتِ حال سے مسلمانوں کے اندر
‹ Previous page Next page › Contents of March 1993 All issues