سفر نامه ۔ ۲
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۳، صفحہ ۳۲
نہ تعمیر خویش کا جذبہ ابھرا اور نہ دینی احتساب کا۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ طرف فکریمل طور پر شیطان کا وسوسہ ہے۔ شیطان چاہتا ہے کہ مسلمان جھوٹی شکایتوں میں کھوئے رہیں اور اپنی اصلاح کی طرف سے غافل ہو جائیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ آپ کا کہنا ہے کہ اسلامی دعوت کا نشانہ فرد ہے نہ کہ جماعت۔ حالانکہ اسلام میں جہاد اور قتال جیسے اعمال بھی ہیں جو کہ سرا سر اجتماعی ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ خیال صحیح نہیں۔ اسلام میں دعا اور عبادت سے لے کر جہاد و قتال تک ہر عمل ذاتی ہے۔ قرآن و حدیث کے مطابق ہر عمل کی قیمت عامل کی نیت کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ ہر آدمی کے عمل کو اندرونی نیت کے معیار پر جانچا جاتا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر عمل، اپنے آخری تجزیہ میں ، ذاتی اور شخصی عمل ہے۔ کسی عمل کا اجتماعی پہلو اس کا اضافی پہلو ہے نہ کہ اس کا حقیقی پہلو۔
ایک صاحب نے پر جوش تقریر کی۔ ان کی عربی تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ اعداء اسلام صرف طاقت سے ڈرتے ہیں ، اور طاقت ہی کے ذریعہ ان کو شر انگیزی سے روکا جا سکتا ہے۔ اس لئے ہم کو چاہئے کہ ہم طاقت فراہم کریں۔ ان کے نزدیک یہی دعوت اسلامی کا سب سے بڑا نکتہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ دعوت اس کا نام ہے کہ امت کو طاقت ور بننے کی طرف متوجہ کیا جائے الدعوة هي توجيه الامة الى القوة ، اس تقریر کو سن کر مجھے نظیر اکبر آبادی کا شعر یاد آگیا :
ہم تو نہ چاند سمجھیں نہ سورج میں جانتے بابا ہمیں تو یہ نظر آتی ہیں روٹیاں ایک شخص بھوکا ہو تو اس کو چاند سورج بھی روٹی کی صورت میں دکھائی دیں گے۔ یہی حال موجودہ مسلمانوں کا ہے۔ موجودہ مسلمانوں پر دشمن کا تصور اتنا چھا گیا ہے کہ ان کو ہر طرف بس دشمن کی پرچھائیاں نظر آتی ہیں۔ حتی کہ انھوں نے اسلام کو اپنے اسی ذہنی نقشہ میں ڈھال لیا ہے۔ قرآن و سنت میں وہ ” دعوت “ کا لفظ دیکھتے ہیں تو فوراً سمجھ لیتے ہیں کہ اس کا مطلب جنگی طاقت بننے کی دعوت ہے ایک مجلس میں میں نے کہا کہ اختلاف موجودہ دنیا کا ایک ناگزیر یہ ظاہر ہے ۔ وہ قیامت تک باقی رہے گا۔ ہمارا اصل کام حالت اختلاف کو ختم کرنا نہیں ہے ، کیوں کہ وہ ممکن نہیں۔ ہمارا اصل کام یہ ہے کہ لوگوں کے اندر یہ مزاج بنائیں کہ وہ اختلاف کو پر امن دائرہ میں حل کرنے کی کوشش
‹ Previous page Next page › Contents of March 1993 All issues