سفر نامه ۔ ۲
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۳، صفحہ ۳۳
کریں۔ موجودہ مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ انھوں نے برداشت کو کھو دیا ہے۔ اختلاف پیدا ہوتے ہی فوراً وہ جارحیت پر اتر آتے ہیں۔
میں نے کہا کہ روس اور امریکہ کے درمیان اختلاف تھا۔ دونوں کے پاس انتہائی طاقتور ہتھیار موجود تھے۔ مگر اس کے باوجود وہ سختی کے ساتھ اس پر قائم ہیں کہ ہر اختلاف کو میز پر طے کرنے کی کوشش کریں۔ خلیج میں عراق اور کویت کے درمیان اختلاف تھا۔ عراق کے پاس اتفاق سے کچھ طاقت آگئی۔ اس نے فوراً کویت کے خلاف فوجی اقدام کر دیا۔ دوسری طرف اسی معاملہ میں امریکہ کو عراق سے شدید ترین اختلاف ہے۔ وہ اپنی فوجیں لئے ہوئے خلیج میں کھڑا ہوا ہے۔ مگر کئی مہینے گزر جانے کے باوجود ابھی تک اس نے عراق پر فوجی حملہ نہیں کیا۔ مسلمانوں کے اسی مزاج نے انھیں موجودہ دنیا میں برباد کر رکھا ہے۔
اخوانی طرز فکر کے کچھ عربوں سے ملاقات ہوئی۔ ان سے گفتگو کے دوران مصر کے لیڈر سید قطب کا ذکر آیا۔ اخوانی حلقہ سید قطب کی بے حد تعظیم کرتا ہے۔ میں نے کہا کہ میں نے سید قطب کو پڑھا ہے ۔ میں نے ان کے یہاں علم اور گہرائی نہیں پائی۔ یہ دراصل جمال عبدالناصر تھے جنھوں نے ان کو بلند کر دیا۔ ناصر نے ان کو قطب سے شہید قطب بنا دیا۔ ناصر نے اگر ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا ہوتا تو وہ ایک عام آدمی بن کر رہ جاتے۔ مگر جب ناصر نے ان کو قتل کر دیا تو انھوں نے ان کو ہیرو بنا دیا۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح جنرل ضیاء الحق نے بھٹو کو پھانسی دے کر بھٹو کو ہیرو بنا دیا : قد قرأت لسيد قطب ۔ فما وجدت عنده علماً و عمقاً ۔ انما هو جمال عبد الناصر الذى رفعه ، فصنعه من قطب الى الشهيد قطب. لو تركه لما ت كشخص عادی ولكن لما قتله جعله بطلاً ، كما ان ضياء الحق جعل بوتو بطلا بمثل هذا العمل کچھ عربوں سے میری ذاتی زندگی کا ذکر آیا۔ میں نے کہا کہ میری زندگی کا سب سے عجیب پہلو یہ ہے کہ دنیوی معاملہ میں میں نے جو کچھ چاہا ، عملاً میرے ساتھ اس کے خلاف معاملہ کیا گیا۔ میں نے کہا کہ اس معاملہ میں میری مثال اردو شاعر عرفانی بدایونی کے اس شعر کی سی ہے : میری ہوس کو عیش دو عالم بھی تھا قبول تیرا کرم کہ تو نے دیا دل دکھا ہوا طبع، مکان، استعداد، قبول، نعمہ، العطام، انة اكر من ثانين دو حبته قال اخبرنا
‹ Previous page Next page › Contents of March 1993 All issues