Al-Risala · March 1993 · page 34

سفر نامه ۔ ۲

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۳، صفحہ ۳۴

یہاں سیکڑوں لوگ جمع تھے اور سب دین کے نام پر یہاں آئے تھے۔ مگر میں نے کسی نشست میں لوگوں کی زبان سے موت اور آخرت کی بات نہیں سنی۔ ایسا لگتا تھا جیسے کہ لوگوں کو اس حقیقت کبریٰ کا علم ہی نہیں۔ ایک مجلس میں میں نے کہا کہ عربی شاعر نے کہا تھا : ستُبدی لک الایام ماكنت جاهلا زمانہ تم کو عنقریب وہ چیز بتا دے گا جس سے تم بے خبر تھے، شاعر نے یہ بات دنیوی معنی میں کہی تھی۔ مگر یہی بات زیادہ شدت کے ساتھ موت اور آخرت کے بارہ میں صحیح ہے۔ جب موت آئے گی اور جب قیامت برپا ہوگی تو لوگ اچانک ان باتوں کو اپنے سامنے دیکھ کر دہشت زدہ ہو جائیں گے جن کی آج انھیں خبر دی جا رہی ہے۔ مگر وہ بے پروائی کے ساتھ اس کو نظر انداز کر رہے ہیں۔

ایک عرب نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ وہ ایک ایسے ملک سے تعلق رکھتے تھے جہاں ان کے خیال کے مطابق ڈکٹیٹر شپ قائم ہے۔ وہ کچھ اور نوجوانوں کے ساتھ ایک خفیہ تحریک چلا رہے تھے تاکہ حکومت کا تختہ الٹ سکیں۔ کئی سال کی کوششوں کے بعد جب انھیں کامیابی نہیں ملی تو انھوں نے ارادہ کر لیا کہ وہ خود کشی کر لیں۔ عین اسی زمانہ میں انھیں انگریزی الرسالہ اور عربی کتابیں مل گئیں۔ ان کا مطالعہ کرتے ہی ان کا ذہن بدل گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اب مجھ کو نئی زندگی حاصل ہو چکی ہے۔ انھوں نے اسلامی مرکز کے مشن کے بارہ میں کہا :

ان هذه الدنيا مثل الصحراء، ولا يوجد بها اى شيئ. وهذه الرسالة هي مثل الشجرة. فلا يوجد اى شيئ غيرها. فيجب ان نقوم لهذه الرسالة بكل قوة. ایک عرب جو اخوانی فکر کے تھے۔ انھوں نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ امراء المسلمین سے سیاسی نزاع کرنا اسلام میں جائز نہیں۔ حالاں کہ امام احمد بن حنبل جیسے جلیل القدر محدث نے عباسی حکومت سے نزاع کی۔ میں نے کہا کہ آپ کا حوالہ درست نہیں۔ امام احمد نے کبھی بھی عباسی حکومت سے سیاسی نزاع نہیں کی۔ یعنی انھوں نے کبھی یہ مہم نہیں چلائی کہ وہ عباسی خلافت کو توڑ کر نیا سیاسی نظام بنائیں. ان کا اختلاف صرف ایک مخصوص اعتقادی مسئلہ میں تھا۔ اس کے آگے ان کا کوئی سیاسی مطالبہ نہیں تھا۔

یہ اسی قسم کا ایک واقعہ تھا جو ہندوستان میں پیش آیا۔ ہندوستان کی سپریم کورٹ نے ایک مسلم

‹ Previous page Next page › Contents of March 1993 All issues

Printed page