سفر نامه ۔ ۲
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۳، صفحہ ۳۵
مطلقہ عورت کے حق میں یہ فیصلہ دیا کہ وہ اپنے سابقہ شوہر سے ماہانہ نفقہ حاصل کرنے کا حق رکھتی ہے۔ یہ فیصلہ ملکی قانون کے تحت دیا گیا تھا۔ مگر وہ شریعت کے خلاف تھا۔ علما نے اس کے خلاف خالص غیر سیاسی انداز میں ایک مہم چلائی یہاں تک کہ حکومت نے نیا ایکٹ بنا کر مسلم مطلقہ عورتوں کو اس ملکی قانون سے مستثنیٰ قرار دیدیا۔ اسی پر امام حنبل کے معاملہ کو قیاس کیا جا سکتا ہے۔ ایک تجربہ گزرا۔ اس کے بعد میری زبان پر بے اختیار یہ فقرة آگیا آہ، وہ لوگ جو جہنم کے قابل بھی نہیں، مگر وہ امیدوار ہیں کہ ان کے لئے جنت کے دروازے کھولے جائیں گے۔ انھیں جنت کے باغوں میں داخل کیا جائے گا۔
۸ ستمبر ۱۹۹۰ کو ایک واقعہ ہوا۔ اس کے بعد میں نے کچھ عرب نوجوانوں سے کہا کہ قرآن کا ایک اسلوب یہ ہے کہ ایک آیت میں بظاہر ایک متعین بات کہی جاتی ہے۔ مگر وہ دراصل ایک کلیہ کا جزئی انطباق ہوتا ہے۔ مثلاً قرآن میں ہے : ما ننسخ من آية ۲ او ننسها نأت بخير منها او مثلها (البقرہ ۱۰۶) ظاہر الفاظ کے اعتبار سے یہاں صرف نسخ آیت کا ذکر ہے۔ مگر وسیع تر معنوں میں وہ اللہ تعالیٰ کے ایک عمومی قانون کا بیان ہے۔ اور وہ یہ کہ اس دنیا میں جب بھی کسی صورت حال کو بدلا جاتا ہے تو اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس کی جگہ کسی نئی بہتر صورت کو لایا جائے۔ اس اعتبار سے قرآن کی مذکورہ آیت کی تفسیر کی جائے تو وہ اس طرح ہوگی :
ان الله سبحانه وتعالى اذا اراد ان يغير الاحوال فما يغييرها الا ويأتى بماهو احسن منه ۔ هذا هو الاسلوب الالهی ۔ وكذلك فعل في القرآن فقال (ماننسخ من آية او ننسها نأت بخير منها او مثلها)
ایک مجلس میں کچھ واقف کار عربوں نے میری ذات کے بارہ میں پوچھا۔ میں نے کہا کہ جو اسلامی مشن میں چلا رہا ہوں، اگر میں اس کو دریافت نہ کرتا تو میں زندہ نہیں رہ سکتا تھا۔ ایک صاحب نے اس کو سن کر پوچھا کہ اس کا سبب کیا ہے ۔
میں نے کہا کہ میں فطری طور پر ایک کمال پسند (perfectionist) آدمی ہوں کمال سے کم (less than perfect) پر راضی ہونا میرے لئے ممکن نہیں۔ جب میں سن شعور کو پہنچا تو میں نے اپنے آپ کو دو چیزوں کے درمیان پایا۔ ایک مادی دنیا۔ دوسرے تقلیدی مذہب ، موجودہ دنیا
‹ Previous page Next page › Contents of March 1993 All issues