اکثریت اور اقلیت
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۳، صفحہ ۱۵
اب مسلمسلمانوملک کے معاملہ کو لمیںجئے، ۱۹؍۱۴ سے پہلے مسلمانوں نے ملک کے بٹوارہ کی تحریک چلائی۔ ہندوؤں نے اس کی مخالفت کی۔ اس کے نتیجہ میں مسلمانوں کے اندر ہندوؤں کے بارہ میں ک پیدا ہو گئے۔ جو تقسیم کے بعد بکہ وہی ختم نہ ہو سکے۔ مزید کہ تقسیم کے ساتھ ہی مسلمانوں ی بھی مصنوعی دانش ور (pseudo-intellectuals) اٹھے۔ انھوں نے مختلف انداز میں مانوں کے اندر اس قسم کے خیالات پھیلائے کہ ہند ومقسّم ہندوستان میں ”دوسرا اسپین“ چاہتا ہے۔ یہ فکر ایک یا دوسرے لفظ میں اتنا زیادہ عام ہوا کہ وہ مسلمانوں کی نفسیات نہ بن گیہیں اب یہ صورتِ حال ہے کہ جب بھی ہند وکی طرف سے کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آتا ہے۔ مثلاً وہ مسلم علاقہ میں جلوس نکالتا ہے۔ یا کچھ نادان ہندو اٹھ کر مسلم مخالف نعرہ لگا دیتے تو فوراً مسلمانوں کے اندر یہ احساس جاگ اٹھتا ہے کہ ہندو یہاں سکنڈ اسپین بنانا چاہتے ا۔ اس دفاعی نفسیات کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ فوراً ہندو کے ساتھ مقابلہ آرائی کے لیے پے ہو جاتے ہیں۔ اب دو طرفہ ردِ عمل شروع ہوتا ہے جو فضا کو اس حد تک بگاڑ تا ہے کہ فساد کی نوبت آ جاتی ہے۔
ایک ”سکنڈ“ کا اندیشہ ہندوؤں کو منفی نفسیات میں مبتلا کیے ہوئے ہے اور دوسرے ”سکنڈ“ کے اندیشہ نے مسلمانوں کو منفی نفسیات میں مبتلا کر رکھا ہے۔ یہی اس ں میں ہند ومسلم مسئلہ کا خلاصہ ہے۔ اس طرح دونوں ہی فرقے اس سے محروم ہو گئے ہیں ھ ملک کی تعمیر میں مطلوبہ مثبت کردار ادا کر سکیں۔
اس طرح کے پیچیدہ مسائل کا حل کبھی دو طرفہ بنیاد پر نہیں نکلتا۔ اور یہی یہاں بھی تا ہے۔ اس کا حل جب بھی نکلے گا ایک طرفہ بنیاد پر نکلے گا۔ اس مسئلہ کا حل بائی لیٹرلزم میں نہیں ، بلکہ یونی لیٹرلزم میں ہے۔ ملک کے وسیع تر مفاد کے لیے کسی ایک فرقہ کو اقدام کرنا ہوگا۔ ہم یہ انتظار کریں کہ پچاس فی صداور پچاس فی صد کی بنیاد پر یہ دونوں فرقے ذمہ داری قبول کریں اور اس طرح دو طرفہ بنیاد پر مسئلہ کو حل کریں تو ایسا انتظار کبھی واقعہ بننے والا نہیں۔ نا واقعات اور انسانی نفسیات دونوں ایسے کسی امکان کا یکسر انکار کرتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1993 All issues