Al-Risala · January 1993 · page 16

اکثریت اور اقلیت

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۳، صفحہ ۱۶

ان حالات میں مسلمانوں کو مشورہ دوں گا کہ وہ اوراس معاملہ میں پہل کریں اور یک طرفہ کئے ذریعہ تمام باہمی جھگڑوں کو ختم کر دیں۔ وہ نہ ہندو جلوس کی روٹ بدلنے کا مطالبہ کریں۔ مخالف نعروں پرمشتعل ہوں ۔ نہ سروسوں میں کم لیے جانے کی شکایت کریں۔ نہ اُردو اور پرے اور مسلم یونی ورسٹی جیسے مسائل پر مطالبا تی تحریکیں اٹھائیں۔ غرض ہر معاملہ میں شکایت اور احتجاج اور ردعمل کا طریقہ چھوڑ دیں۔ وہ خارجی احتجاج کی بنیاد پر تحریکیں چلانے کےلیے بجائے داخلی کی بنیاد پر اپنی تمام تحریکیں چلائیں۔

مسلمان اگر اس یک طرفہ اصول پر عمل کریں تو یہ ان کے لیے نہ صرف عمل معکوس (reverse course) کے مجرب طریقہ کو اختیار کر نے کے ہم معنی ہوگا، بلکہ یہ ان کے ۔ عین ثواب کی بات بھی ہوگی ۔ کیوں کہ یک طرفہ صبر پیغمبر اسلام کی سنتوں میں سب سے بڑی سنت ہے۔

کہ نے ہجرت ایک طرفہ صبر کی کارروائی تھی۔ حدیبیہ سے عمرہ کیے بغیر واپسی بھی اسی یک طرفہ صبر کے اصول پر عمل کرنا تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ یک طرفہ اقدام کے ذریعہ نزاعی مسائل کو حل کیا۔ آج اگر مسلمان اس اصول پر عمل کریں تو یہ سنت رسول کی پیروی ہوگی ۔ اس بنا پر عظیم ثواب حاصل کرنے کا ذریعہ بھی۔

یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ بے حد اہم بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آزادی کے بعد مسلمان اس ملک میں نہایت اہم تخلیقی کردار (creative role) ادا کرنے کی حیثیت تھے۔ ان کے حق میں تمام ضروری حالات جمع ہو چکے تھے ۔ مگر مسلمان صبر کا ثبوت نہ دے اس لیے یہ تخلیقی کردار ادا کرنا بھی ان کے لیے مقدر نہ ہوسکا۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ان کو ہم نے امام بنایا کہ وہ لوگوں کو امر حق کی ہدایت کرتے تھے، یہ اس وقت ہوا جب کہ انھوں نے صبر کیا (وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ ائمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا) اس دنیا میں قیادت وامامت کی واحد قیمت ہے ، مسلمانوں نے صبر کی قیمت ادا نہیں کی، اس لیے وہ نئے ہندوستان میں امام اور قا منصب بھی حاصل نہ کر سکے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1993 All issues

Printed page