ہندوستان اور مسلمان
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۳، صفحہ ۱۷
ہندوستان اور مسلمان
اولاً ہندوستان میں وہ مسلمان آئے جو عرب نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے اعلیٰ اوصاف کی بنا پر ہندوستان میں ان کا استقبال کیا گیا۔ جواہر لال نہرو نے اپنی کتاب ڈسکوری آف انڈیا میں لکھا ہے کہ یہ عرب جب ہندوستان آئے تو اپنے ساتھ شاندار کلچر (brilliant culture) لے کر یہاں آئے (ڈسکوری آف انڈیا، ایڈیشن 1991، صفحہ ۲۷۷)
بعد کے دور میں ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت قائم ہوئی۔ یہ حکمراں اگرچہ قدیم عربوں جیسی اعلیٰ صفات کے حامل نہ تھے۔ تاہم ان سے بھی ہندوستان کو امن اور انصاف کا تحفہ ملا۔ اسلامی انقلاب کا سیلاب اتنا طاقت ور تھا کہ سیکڑوں سال بعد بھی اس کے اثرات مسلم نسلوں کے ذہن پر باقی تھے۔
مثلاً مغل بادشاہ جہانگیر کے زمانہ حکومت میں اس کی ملکہ نور جہاں نے ایک راہ گیر کو طپنچہ رکھ کر ہلاک کر دیا۔ مقدمہ جہانگیر کے دربار میں پیش ہوا تو شبلی نعمانی کے الفاظ میں : مفتی شرع نے بے خوف و خطر صاف کہا شرع کہتی ہے کہ قاتل کی اڑا دو گردن جہانگیر اور اس کی ملکہ کو یہ ہمت نہ ہو سکی کہ وہ مفتی کے اس فتوے کا انکار کر دیں۔ دوسری طرف عین اسی زمانہ میں انگلینڈ میں جیمز فرسٹ کی حکومت تھی جو جہانگیر کا ہم عصر تھا جس کو ک نے ایک مالی مقدمہ میں ایک تاجر کے حق میں فیصلہ دیا۔ یہ فیصلہ جیمز فرسٹ کو اپنے خلاف معلوم ہوا۔ ماہ پر وہ جسٹس کوک سے خفا ہو گیا اور جسٹس کی حیثیت سے ان کا عہدہ ختم کر دیا۔ اس کے بعد وہ دور آیا جب کہ ہندوستان میں انگریزوں کو غلبہ حاصل ہوا۔ انھوں نے یہاں اپنی حکومت قائم کر لی۔ اب ملک میں آزادی کی تحریک اٹھی۔ اس تحریک میں مسلمانوں نے اہم کردار ادا کیا۔ اس تحریک کے لیے جان و مال کی قربانی کی ضرورت تھی۔ اس میں اپنے آپ کو فنا کرنا تھا۔ اس میں مسلمانوں نے عملی حصہ لیا۔ مزید یہ کہ مسلمانوں کے یہاں جہاد کا تصور تھا۔ جب کہ وہ بھائیوں کے یہاں اس قسم کا کوئی سر فروشی کا تصور موجود نہ تھا۔ مسلمانوں نے آزادی کی تحریک میں جہاد کا تصور شامل کر کے اس کو نہایت جاندار بنا دیا۔
وطنی آزادی کی تحریک کے لیے جہاد آزادی، مجاہد آزادی، شہید آزادی جیسے ولولہ انگیز
‹ Previous page Next page › Contents of January 1993 All issues