غصہ نہ کرو
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۳، صفحہ ۱۱
غصہ نہ کرو
قرآن میں اہل ایمان کی صفت یہ بتائی گئی ہے کہ وہ اپنے غصہ کو اندر ہی اندر پی جاتے ہیں آل عمران ۱۳۴) اور جن لوگوں کے اوپر انھیں غصہ آیا ہے ان کو معاف کر دیتے ہیں (الشوریٰ ۳۷) اس بات کو حدیث میں مختلف انداز سے بتایا گیا ہے ۔ ایک روایت یہ ہے : عن حمید بن عبدالرحمن عن رجل حمید بن عبدالرحمن تابعی کہتے ہیں کہ رسول اللہ من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صحابی قال رجل یار سول الله اوصنی ، قال : نے انھیں بتایا کہ ایک شخص نے کہا کہ اے خدا کے لا تغضب ۔ قال الرجل۔ ففکرت حین رسول مجھے نصیحت کیجیے ۔ آپ نے فرمایا کہ غصہ قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم ما قال نہ کرو ۔ صحابی کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ فاذا الغضب يجمع الشر كله علیہ وسلم کی اس نصیحت پر غور کیا تو میں نے جانا کہ (مسند احمد) غصہ تمام برائیوں کا مجموعہ ہے۔
انسان کی فطرت خیر پسند ہوتی ہے۔ یہ فطرت ہر انسان کو برائی سے روکتی ہے ۔ وہ برائی کے خلاف ایک مستقل چیک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی انسان کبھی نارمل حالت میں برائی نہیں کر پاتا ۔ کوئی شخص برائی صرف اس وقت کرتا ہے جب کہ کوئی غیر معمولی واقعہ پیش آئے جو اس کی فطری حالت کو درہم و برہم کر دے۔
یہ غیر معمولی حالت ہمیشہ انا کے بھڑکنے سے پیدا ہوتی ہے۔ کسی آدمی کی انا جب بھڑکتی ہے تو اس وقت وہ فطرت کے قبضے سے نکل کر غصہ کے قبضے میں چلا جاتا ہے۔ اور پھر وہ ایسے کام کر ڈالتا ہے جو عام حالات میں وہ کبھی نہیں کر سکتا تھا۔ انسانوں کی یہ تقسیم صحیح نہیں ہے کہ ان میں کچھ خیر پسند ہیں اور کچھ شر پسند ۔ زیادہ صحیح تقسیم یہ ہوگی کہ مشتعل انسان اور غیر مشتعل انسان کا لفظ بولا جائے ۔ مشتعل ہونے سے پہلے ہر انسان خیر پسند ہی ہوتا ہے۔ البتہ مشتعل ہونے کے بعد وہ شر پسند بن جاتا ہے۔ غصہ پر کنٹرول کرنا تمام بھلائیوں کا سر چشمہ ہے اور غصہ کو بھڑکانا تمام برائیوں کا سرچشمہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1993 All issues