Al-Risala · April 1993 · page 13

سب کچھ امتحان

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۳، صفحہ ۱۳

سب کچھ امتحان

قرآن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعات بتاتے ہوئے کہا گیا ہے ـــــ فرعون کی قوم کے سرداروں نے فرعون سے کہا۔ کیا تو موسیٰ کو اور اس کی قوم کو چھوڑ دے گا کہ وہ زمین میں فساد کریں اور تجھ کو اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دیں۔ فـرعــون نے کہا کہ ہـم ان کے بیٹوں کو قتل کریں گے اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھیں گے۔ اور ہم ان کے اوپر پوری طرح قادر ہیں۔ موسیٰ نے اپنی قوم بنی اسرائیل سے کہا کہ اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ زمین اللہ کی ہے، وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے۔ اور آخری انجام اللہ سے ڈرنے والوں ہی کے لیے ہے۔ موسیٰ کی قوم نے کہا، تمہارے آنے سے پہلے بھی ہم ستائے گئے اور تمہارے آنے کے بعد بھی۔ موسیٰ نے کہا، قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے اور ان کے بجائے تم کو اس سرزمین کا مالک بنا دے۔ پھر اللہ دیکھے کہ تم کیسا عمل کرتے ہو (الاعراف ۱۲۹ ۱۲۷)

ان آیات پر غور کیجئے! بنی اسرائیل فرعون کے ظلم و ستم کا شکار ہو رہے تھے۔ انہوں نے وقت کے پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اس کی شکایت کی۔ حضرت موسیٰ نے اس کے جواب میں انہیں احتجاج اور مطالبات یا ٹکراؤ کا کوئی نسخہ نہیں بتایا۔ بلکہ یہ کہا کہ اللہ کی طرف رجوع ہو جاؤ اور صبر کرو۔

بنی اسرائیل نے کہا کہ پھر تمہارے پیغمبر ہونے سے کیا فائدہ۔ ہم تو سمجھتے تھے کہ تمہارے آنے کے بعد ہم کو حکومت اور اقتدار ملے گا۔ اور تم ہم کو بے اقتدار رکھ کر صبر کی تلقین کر رہے ہو۔ حضرت موسیٰ نے فرمایا کہ حکومت اور اقتدار بھی صبر ہی کا ایک مرحلہ ہے۔ کیونکہ وہ اس لیے ہوتا ہے کہ اللہ دیکھے کہ حکومت پانے کے بعد آدمی کیسا عمل کرتا ہے۔

اس دنیا میں اصل مسئلہ با اقتدار ہونا یا بے اقتدار ہونا نہیں ہے۔ بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آدمی کو جو حالات ملے اس میں اس نے کس قسم کی کارکردگی کا ثبوت دیا۔ موجودہ دنیا امتحان کی جگہ ہے اور آنے والی دنیا بدلہ پانے کی جگہ۔ اس لیے آدمی کا نظر ہمیشہ اپنے حالات پر ہونی چاہیے نہ کہ خارجی حالات پر۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1993 All issues

Printed page