ہندوستان اور مسلمان
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۳، صفحہ ۱۸
الفاظ مسلمانوں ہی نے دیے۔ اور بلا شبہ یہ تحریک آزادی میں مسلمانوں کا ایک تخلیقی عطیہ ہے جس کےبعد بغیر تحریک آزادی مکمل نہ ہوتی۔
۱۹۴۷ء کے بعد وہ دور آیا جب کہ ملک آزاد ہو گیا۔ مگر اس نئے دور میں ہندوستانی مسلمانوں کو بروقت صحیح رہنمائی نہ مل سکی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ حالات کا شکار ہو کر رہ گئے۔ ۱۹۴۷ء سے پہلے وہ اس ملک میں دینے والے گروہ (giver group) کی حیثیت رکھتے تھے۔ مگر ۱۹۴۷ء کے اس ملک میں وہ لینے والے گروہ (taker group) کی حیثیت اختیار کر گئے۔ یہی جدید ہندوستان میں مسلمانوں کا سب سے بڑا المیہ دہے۔
۱۹۴۷ء سے پہلے ہر دور میں مسلمانوں کو عزت و احترام کا درجہ حاصل تھا۔ مگر ۱۹۴۷ء کے بعد آنے والے دور میں انہیں عزت و احترام کا درجہ حاصل نہ ہو سکا۔ اس کی وجہ کوئی سازش یا تعصب نہیں ہے۔ اس کی وجہ خود مسلمانوں کی یہ داخلی کمزوری ہے کہ انھوں نے جدید دور میں پہنچ کر تخلیقیت (creativity) کھودی۔ وہ اہلِ ملک کے لیے دوبارہ نفع بخش ثابت نہ ہو سکے۔ جب کہ قرآن کے مطابق ، اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ اس دنیا میں اسی کو ثبات اور استحکام حاصل ہوتا ہے جو دوسروں کے لیے نفع بخشی کا ثبوت دے (الرعد ، ۱۷) نئے ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے اس نفع بخشی کا موقع مزید اضافہ کے ساتھ موجو ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ ان مواقع کو سمجھا جائے ، اور ضروری تقاضوں کی رعایت کرتے۔ ہوئے انہیں استعمال کیا جائے۔ یہاں اس معاملے کی وضاحت کے لیے میں دو مثالیں دوں گا۔ آزادی سے پہلے اس ملک کے مفکرین یہ سوچتے رہتے تھے کہ جب آزادی آئے گی تو اس کا نقشہ کیا ہوگا۔ اور آزاد ہندوستان کی تعمیر کس طرح کی جائے گی۔ اس سلسلہ میں غالباً یہ قابل ذکر نام سوامی دیویکانند کا ہے۔ انھوں نے ۱۸۹۸ء میں ایک خط کے جواب میں لکھا۔ کہ ہماری مادر وطن کے لیے دو عظیم نظاموں ، ہندو ازم اور اسلام کا ملاپ واحد امید ہے میں اپنے دماغ کی آنکھ سے دیکھتا ہوں کہ مستقبل کا معیاری ہندوستان انتشار اور خرابی سے با عظمت اور ناقابل تسخیر بن کر اٹھ رہا ہے ، اور یہ ویدانت برین اور اسلام باڈی کے ذریعہ ہو رہا ہے :
‹ Previous page Next page › Contents of January 1993 All issues