آیت فتنہ
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۳، صفحہ ۱۹
ہر شخص کو اپنا حریف سمجھ کر انہیں ستائیں گے۔ اس طرح مذہبی جبر اور مذہبی ایذارسانی کی حالت دوبارہ نئی صورت میں قائم ہو جائے گی۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا یہ تبصرہ موجودہ زمانہ کے ان لوگوں پر براہ راست طور پر صادق آتا ہے جو اپنے آپ کو انقلابی اسلام کا نمائندہ بتاتے ہیں۔ ان لوگوں نے مختلف مسلم ملکوں میں یہ کیا کہ مسلم حکمرانوں کے بگاڑ کے خلاف سیاسی جھنڈا لے کر کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے یہ انقلابی مہم شروع کر دی کہ ان غیر صالح حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل ہو کر صالح قیادت کا نظام قائم کریں۔
ان انقلابی تحریکوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلم ملکوں کے حکمران اسلام کو اپنے سیاسی حریف کی نظر سے دیکھنے لگے۔ انہوں نے اسلام کے نام پر اٹھنے والی تحریک کو کچلنا شروع کر دیا۔ حتیٰ کہ آج یہ صورت حال ہے کہ آپ امریکہ اور انگلینڈ میں تو اسلام کے نام پر تحریک چلا سکتے ہیں۔ مگر مسلم ملکوں میں اسلام کے نام پر تحریک چلانے کے مواقع نہیں۔ قرآن میں جس چیز کو فتنہ (مذہبی جبر) کہا گیا تھا، وہ آج سب سے زیادہ مسلم ملکوں میں پایا جاتا ہے۔ اور یہ تمام تر اسی قسم کے نام نہاد مسلم رہنماؤں کی غلط تحریکوں کے نتیجہ میں ہوا ہے جن پر تبصرہ کرتے ہوئے صحابی رسول نے کہا تھا کہ ہم نے لڑ کر فتنہ کو ختم کر دیا تھا اور تم اس لیے لڑ رہے ہو کہ فتنہ دوبارہ مسلم معاشرہ میں واپس آ جائے ۔
رجاء قطعہ و الاحتفاظ بہ Please cut & keep براہ کرم کاٹ کر دکھائیے جدید ترین عربی - انگریزی کمپیوٹر ٹائپ سیٹنگ ہ * معیاری عربی ترجمه تنضيد الحروف بأحدث برامج الكمبيوتر • ترجمة عربية راقية Latest Arabic computer typesetting/ world-class Arabic translation Media & Publishing P.O. Box 9701, 84 Abul Fazl Enclave (Behind Main Market)
Jamia Nagar, New Delhi 110 025 Tel.: 6835825 Fax: 6830909
‹ Previous page Next page › Contents of April 1993 All issues