ترقی کا راز
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۳، صفحہ ۲۰
ترقی کا راز
گلاب کا درخت فطرت کا ایک مظہر ہے۔ اسی کے ساتھ وہ ایک علامت ہے جو ہر دیکھنے والے کو بتا رہا ہے کہ دنیا میں ہم کو کس طرح زندگی گزارنا ہے۔
آپ جانتے ہیں کہ گلاب کے درخت میں بیک وقت پھول بھی ہوتے ہیں اور کانٹے بھی۔ ہر عقل مند آدمی یہ کرتا ہے کہ وہ پھول کو لے لیتا ہے اور کانٹے کو چھوڑ دیتا ہے۔ اسی طرح زندگی کے خوش گوار پہلو ہیں اور اسی کے ساتھ ناخوش گوار پہلو بھی۔ یہاں بھی دانش مندانہ طریقہ یہ ہے کہ خوش گوار پہلو کو لیا جائے اور ناخوش گوار پہلو کو نظر انداز کر دیا جائے۔ ہمارے پرائم منسٹر نے ۱۵ اگست ۱۹۹۲ کی تقریر میں کہا کہ ہم کو ایک قسم کے موریٹوریم کی ضرورت ہے۔ یعنی چند سال کے لیے ہم لوگ طے کر لیں کہ ہم اختلافی باتوں کو بازو میں رکھ دیں اور اتفاقی باتوں کی بنیاد پر ایک دوسرے سے تعاون کریں گے۔ موجودہ حالات میں اس قسم کا مورے ٹوریم ملک کی ترقی کے لیے بہت ضروری ہے۔
تاہم یہ صرف چند سال کی بات نہیں بلکہ پوری زندگی کی بات ہے۔ کوئی فرد یا کوئی قوم اسی وقت ترقی کر سکتی ہے جب کہ وہ اس حکمت کو اختیار کر لے کہ انہیں مسائل سے اعراض کرنا چاہیے اور مواقع کو استعمال کرتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھنا ہے۔
آپ اپنی سواری لے کر سڑک پر نکلتے ہیں تو آپ کیا کرتے ہیں۔ آپ دیکھتے ہیں کہ سڑک پر آپ کے ساتھ دوسرے بہت سے لوگ بھی اپنی سواریاں دوڑا رہے ہیں۔ آپ دوسروں سے ٹکراتے نہیں۔ بلکہ دوسروں سے بچتے ہوئے اپنا سفر طے کرتے ہیں۔
یہی معاملہ پوری زندگی کا ہے۔ اس دنیا میں کوئی شخص اکیلا نہیں ہے۔ یہ دنیا بہت سے انسانوں سے بھری ہوئی ہے۔ ہر ایک اپنی اپنی دوڑ میں لگا ہوا ہے۔ اب اس دنیا میں کامیاب زندگی حاصل کرنے کا راز اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ ہر ایک، دوسرے کا لحاظ کرے۔ ہر ایک دوسرے کو راستہ دیتے ہوئے اپنا راستہ اختیار کرے۔ دوسروں کی رعایت کرنا اپنے لیے کامیاب سفر حاصل کرنے کی سب سے زیادہ یقینی ضمانت ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1993 All issues