Al-Risala · April 1993 · page 21

ترقی کا راز

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۳، صفحہ ۲۱

ہندوستان میں مختلف مذہب اور کلچر کے لوگ رہتے ہیں۔ ان تمام کو بدل کر ایک مذہب اور ایک کلچر بنانا ممکن نہیں۔ اگر اس قسم کی وحدانیت پیدا کرنے کی کوشش کی جائے تو وحدانیت تو پیدا نہیں ہوگی۔ البتہ وحدانیت پیدا کرنے کی کوشش میں ملک برباد ہو جائے گا۔ اس لیے ہم کو وحدانیت کلچر کے بجائے تعدد کلچر کے اصول کو اختیار کرنا ہے۔ یہی ممکن بھی ہے اور یہی میابی کا طریقہ بھی۔

آج ہمارے ملک میں سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ روادارى (ٹالرنس) ہے۔ رواداری کا مطلب ہے اپنے طریقہ پر قائم رہتے ہوئے دوسروں کے طریقہ کا احترام کرنا۔ اسی رواداری پر صدیوں سے ملک کا انتظام چلا آرہا ہے۔ اسی پر وہ آئندہ بھی چل سکتا ہے۔ خواہ ایک فرقہ کے لوگ ہوں یا مختلف فرقہ کے لوگ، رواداری ہر حال میں ضروری ہے۔ حتی کہ ایک خاندان کے دس افراد اگر ایک ساتھ رہتے ہوں تو وہ بھی کامیاب گھر اسی وقت بنا سکتے ہیں جبکہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ رواداری کا معاملہ کریں۔

دو سال پہلے میں شولا پور گیا۔ وہاں ایک جلسہ میں ایک ہند و بھائی کی تقریر سننے کا اتفاق ہوا۔ انھوں نے کہا کہ میرے باپ نان ویجیٹیرین تھے اور میری ماں ویجیٹیرین تھی۔ مگر دونوں میں کبھی کوئی اختلاف نہیں ہوا۔ میری ماں روزانہ صبح کو اٹھ کر پہلے میرے باپ کے لیے کھانا بناتی۔ اور اس کو کھانے کی میز پر رکھ دیتی۔ اس کے بعد وہ نہا کر اپنے لیے ویجیٹیرین کھانا بناتی۔ اسی طرح وہ دونوں پوری زندگی میں عمل کرتے رہے۔ انھوں نے نہایت پر مسرت زندگی گزاری۔ یہی قومی تعمیر کا واحد طریقہ ہے۔ قومی زندگی میں ہم کو یہی کرنا ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو گوارا کریں۔ وہ ایک دوسرے کے ساتھ انسانی احترام کے اصول پر معاملہ کریں جس طرح وہ اپنے لیے یہ حق سمجھتے ہیں کہ انہیں اپنے مذہب اور کلچر کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی ہو اسی طرح وہ دوسروں کو بھی یہ حق دیں کہ وہ اپنے پسندیدہ مذہب اور اپنے پسندیدہ کلچر کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے آزاد ہیں۔ اس قسم کے فرق کو رواداری کے خانہ میں ڈالنا ہے ، اس کو اختلاف کا مسئلہ نہیں بنانا ہے۔ یہی قومی تعمیر کا واحد کا کامیاب طریقہ ہے۔ مثلاً ایک فرقہ کے لوگ شہر کی سڑک پر اپنا جلوس نکالتے ہیں۔ اس میں کچھ پر جوش لوگ

‹ Previous page Next page › Contents of April 1993 All issues

Printed page