Al-Risala · April 1993 · page 22

ترقی کا راز

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۳، صفحہ ۲۲

ایسے نعرے بھی لگا دیتے ہیں جو دوسرے فرقہ کے لیے ناگوار ہوں۔ اب دوسرے فرقہ کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اس کو وقار کا مسئلہ بنا لے اور جلوس کو روکنے یا اس کی روٹ بدلوانے کے لیے کھڑا ہو جائے۔ جلوس کے مسئلہ کا حل جلوس کو نظر انداز کرنا ہے نہ کہ اس سے ٹکرانا۔ اگر جلوس کے معاملہ میں اعراض کا طریقہ اختیار کیا جائے تو وہ چند منٹ میں اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔ مگر جب روک ٹوک اور مزاحمت کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے تو الٹا نتیجہ نکلتا ہے۔ جو چیز ابتداً صرف جلوس کی حیثیت رکھتی تھی وہ فساد کی حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔

ہمیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اس معاملہ میں ہمارے لیے انتخاب (چوائس) جلوس اور بے جلوس میں نہیں ہے، بلکہ جلوس اور فساد میں ہے۔ جلوس کو اگر روکا جائے تو اس کے نتیجہ میں جو چیز حاصل ہوگی وہ بے جلوس صورت حال نہیں ہے، بلکہ دو فرقوں کے درمیان فساد ہے جس میں جان و مال کی تباہی کے سوا اور کچھ نہیں۔

موجودہ دنیا میں آدمی ہمیشہ دو چیزوں کے درمیان ہوتا ہے۔ ایک طرف مسائل ہوتے ہیں اور دوسری طرف مواقع۔ یہ قدرت کا قانون ہے اور اس دنیا میں کبھی اس کے خلاف ہونا ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں عقل مندی یہ ہے کہ مسائل کو نظر انداز کیا جائے اور مواقع کو استعمال کیا جائے۔ مسائل کو نظر انداز کرنا گویا اپنے لیے عمل کا وقفہ حاصل کرنا ہے۔ اور مسائل سے الجھنا ملے ہوئے وقت کو ضائع کر دینا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1993 All issues

Printed page