مطالعہ قرآن
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۳، صفحہ ۲۳
مطالعہ قرآن
قرآن مکی سورہ العنکبوت کی دور میاس، ہجرت سے پہلے نازل ہوئی۔ اس زمانہ میں اسلام کے کفین اہل اسلام پر بہت ظلم کر رہے تھے۔ روزانہ کی سختیوں نے وہاں زندگی کو ایک مصیبت دیا تھا۔ اس وقت اہل اسلام سے مکہا گیا کہ خدا کی زمین بہت وسیع ہے۔ تم مکہ چھوڑ کر دوسری نہ چلے جاؤ اور وہاں خدا کی عبادت کرو۔ چنانچہ مسلمانوں نے اولاً حبش کی طرف ہجرت کی اور ں کے بعد مدینہ کی طرف ۔ اس سلسلہ میں چند آیتیں یہ ہیں :
اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو بے شک میری زمین وسیع ہے ، پس تم میری ہی عبادت کرو۔ ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ پھر تم سب ہماری طرف لوٹائے جاؤ گے۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے ان کو ہم جنت کے بالاخانوں میں جگہ دیں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ کیا ہی اچھا اجر ہے عمل کرنے والوں کا، جنہوں نے صبر کیا اور جو اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ اور کتنے جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے۔ اللہ ان کو رزق دیتا ہے اور تم کو بھی۔ اور وہ سننے والا، جاننے والا ہے (العنکبوت ۵۶ - ۶۰)
ان آیات میں "صبر" کا لفظ خاص طور پر قابل غور ہے۔ صبر کے لغوی معنی ہیں جمنےا۔ جمن کا مطلب اگر دشمن سے ٹکراؤ پر جمنا ہو تو مکہ کے مسلمانوں کو اپنے دشمنوں سے لڑنا چاہیے تھا، مگر اس کے بجائے انھوں نے یہ کہا کہ وہ خدا اور رسول کی رہنمائی کے مطابق ، مکہ کو چھوڑ کر باہر کے علاقوں میں چلے گئے تاکہ جس عبادت کے مواقع ان کو مکہ میں نہیں مل رہے ہیں، اس کو باہر جا کر حاصل کریں۔
اس سے معلوم ہوا کہ یہاں صبر کا مطلب عبادت پر جمنا ہے نہ کہ دشمن سے ٹکراؤ پر جمنا۔ اگر صبر سے مراد یہ ہو کہ دشمن سے مقابلہ کرنے میں جمے رہو تو مکہ کے مسلمانوں سے کہا جاتا کہ تم لوگوں کے خلاف کہ میں اگر ظلم کیا جا رہا ہے تو تم ظلم کرنے والوں سے لڑ جاؤ کسی حال میں بھی تم مکہ کو نہ چھوڑو، خواہ اس مقابلہ آرائی میں تم کو وہیں مر جانا پڑے۔ گویا یہاں عدم قتال پر صبر کرنا مراد ہے نہ کہ قتال پر صبر کرنا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1993 All issues