Al-Risala · April 1993 · page 24

اخلاقی سلوک

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۳، صفحہ ۲۴

اخلاقی سلوک

دنیا میں جب لوگ مل جل کر رہتے ہیں تو بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک کا سابقہ دوسرے سے پڑتا ہے۔ گھر کے اندر بھی اور گھر کے باہر بھی۔ ایسے مواقع پر دوسروں کے ساتھ شرافت اور انصاف کا معاملہ کرنا اچھا اخلاق ہے ، اور پستی اور بے انصافی کے ساتھ معاملہ کرنا برا اخلاق ۔ اچھے اخلاق کی سب سے پہلی پہچان یہ ہے کہ آپ اپنے دل سے دوسروں کے خیر خواہ ہوں۔ آپ ہمیشہ دوسروں کا بھلا چاہیں۔ دوسروں کے لیے آپ کے دل میں محبت ہو ، نفرت نہ ہو۔ دوسروں کی ترقی دیکھ کر آپ کے اندر جلن نہ پیدا ہو اور دوسروں کو برے حال میں دیکھ کر آپ اسنیں حقیر نہ سمجھیں۔ دوسروں کے بارے میں آپ کو کوئی بات نہیں تو آپ اس کو اچھے معنی میں لیں ، اس کی وجہ سے آپ دوسروں کے بارے میں بدگمان نہ ہو جائیں۔

دوسروں کا خیر خواہ بننے کی پہچان کیا ہے۔ اس کی سادہ پہچان یہ ہے کہ دوسروں کے لیے آپ وہی پسند کرنے لگیں جو آپ خود اپنے لیے پسند کرتے ہیں۔ آپ کو یہ پسند ہے کہ دوسرے لوگ آپ کا اعتراف کریں تو آپ بھی اسی طرح دوسروں کا اعتراف کریں۔ آپ کو پسند ہے کہ کوئی آپ کو بے عزت نہ کرے تو آپ بھی اسی طرح دوسروں کو کبھی بے عزت نہ کریں۔ آپ کو پسند ہے کہ کوئی آپ کا مال بے جا طور پر نہ لے تو آپ بھی دوسروں کا مال بے جا طور پر لینے سے پوری طرح اپنے آپ کو بچائیں۔ دنیا میں آدمی کا سابقہ جب دوسروں سے پیش آتا ہے تو ایسا ہوتا ہے کہ کبھی دوسروں کے ساتھ اس کو شکایت ہو جاتی ہے۔ ایسے مواقع پر خوش اخلاقی کے رویہ پر قائم رہنے کی ایک ہی لازمی شرط ہے۔ وہ یہ کہ آپ کے اندر اعراض کرنے اور بھلا دینے کی عادت ہو۔

دوسروں کی زبان سے آپ کے لیے کڑوا بول نکلے مگر آپ دوسروں کو اپنا کڑوا بول نہ سنائیں ۔ دوسروں سے آپ کو کوئی چوٹ لگ جائے تو آپ ایسا نہ کریں کہ آپ بھی اس کے خلاف انتقامی جذبے لے کر بیٹھ جائیں ۔ دوسرا آپ کو نظر انداز کر رہا ہو، اس وقت بھی آپ ایسا نہ کریں کہ اپنے آپ کو اس سے کاٹ لیں اس دنیا میں اچھے اخلاق پر قائم رہنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی دوسرے اخلاق والوں

‹ Previous page Next page › Contents of April 1993 All issues

Printed page