Al-Risala · January 1993 · page 14

ہندوستان اور مسلمان

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۳، صفحہ ۱۴

دوسری مثال مہاتما گاندھی کی ہے۔ ۱۹۳۶ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ مختلف صوبوں میں نگریس کی وزارتیں بنیں۔ اس کے بعد مہاتما گاندھی نے اپنے اخبار ہریجن (۲۷ جولائی ۱۹۳۶) میں کانگریسی وزیروں کو سادہ زندگی اختیار کرنے کا مشورہ دیا۔ انھوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں عملی نمونہ کے لیے میں رام اور کرشن کا نام نہیں لے سکتا۔ کیوں کہ وہ تاریخی شخصیتیں (historic personalities) نہ تھیں۔ میں مجبور ہوں کہ دورِ اول کے اسلامی اقدار کا حوالہ دوں۔ کیوں کہ تاریخ بتاتی ہے کہ وہ بہت بڑی سلطنت کے حاکم تھے مگر انھوں نے درویشوں جیسی زندگی گزاری ، انھوں نے کہا کہ ہم کو ابو بکر اور عمر کے نمونہ کی پیروی کرنا چاہیے : We have to follow the example of Abu Bakr and Umar. سوامی ویویکانند اور مہاتما گاندھی کے مذکورہ اقتباسات بتاتے ہیں کہ آزاد ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے ایک عظیم کردار ادا کرنے کا موقع تھا۔ حتی کہ خود ملک اس بات کا منتظر تھا کہ مسلمان آگے بڑھیں اور یہ کردار ادا کر کے ملک میں اپنے لیے با عزت جگہ حاصل کریں۔ مگر مسلمان بھی ان امیدوں کو پورا نہ کر سکے۔ اور ساتھ ہی ملک کے مستقبل کی تعمیر بھی واقعہ نہ سکی۔ آزادی کے بعد ملک کی نئی تعمیر کے لیے دو چیزوں کی ضرورت تھی۔ ایک اقدار (values) کا اور دوسرے ان اقدار کے حق میں عملی نمونہ۔ مثلاً ایک قدر یہ ہے کہ حکمران افراد کو بھی عام لوگوں کی طرح معمولی زندگی گزارنا چاہیے تاکہ انھیں عام انسان کی ضرورتوں کا احساس رہے۔ ایک قدر یہ ہے کہ ایک بڑے آدمی کو بھی اسی طرح قانون کا ماتحت ہونا چاہیے جس طرح ایک چھوٹا آدمی۔ آدمی۔ ایک قدریہ ہے کہ ہر انسان کو سماج میں برابر کا درجہ ملنا چاہیے ، خواہ وہ ایک نسل سے تعلق رکھتا ہو یا دوسری نسل سے۔ ایک قدر یہ ہے کہ عہدہ اور منصب لیاقت کی بنیاد پر ملنا چاہیے نہ کہ ذاتی تعلق کی بنیاد پر ۔ وغیرہ ، وغیرہ ۔

سوامی ویویکانند اور مہاتما گاندھی اور دوسرے ہندوستانی مفکرین کا خیال تھا کہ ان

‹ Previous page Next page › Contents of January 1993 All issues

Printed page