Al-Risala · April 1993 · page 25

اخلاقی سلوک

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۳، صفحہ ۲۵

اچھے اور برے اخلاق کا بہت زیادہ تعلق زبان سے ہوتا ہے۔ کڑوا بول بد اخلاقی کی امت ہے اور میٹھا بول خوش اخلاقی کی علامت۔ زبان سے نکلے ہوئے کچھ الفاظ ایک شخص کو آپ کا دشمن بنا سکتے ہیں۔ اور اسی زبان سے نکلے ہوئے کچھ اور الفاظ کا اثر یہ ہو سکتا ہے کہ ان کو سننے والا آپ کا قریبی دوست بن جائے۔

اخلاق کا ایک اہم تقاضا یہ ہے کہ آپ کے اندر دوسروں کے لیے فیاضی اور اعلیٰ ظرفی کے جذبات ہوں۔ دوسروں کی سخت بات کو برداشت کر کے آپ ان کے ساتھ نرم بات بولیں۔ دوسرے سے آپ کو نقصان پہنچے تب بھی آپ اس کو نفع پہنچائیں۔ دوسرے سے آپ کو کچھ نہ ملنے والا ہو تب بھی آپ اس کو دینے کی کوشش کریں۔ دوسرا آپ کو اشتعال دلائے تب بھی آپ مشتعل ہوئے بغیر اس کے ساتھ شرافت کا معاملہ کریں۔

اخلاق اس بہتر سلوک کا نام ہے جس میں شرافت، خیر خواہی اور اعلیٰ ظرفی کی اسپرٹ پائی جائے ۔ با اخلاق انسان وہ ہے جس کی زندگی میں سورج کی روشنی اور پھولوں کی مہک جیسی خصوصیات پیدا ہو جائیں۔

اچھا سماج بنانے کے لیے سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ اچھا اخلاق ہے۔ جس سماج کے افراد اچھے اخلاق والے ہوں، جو ایک دوسرے کے ساتھ اخلاق اور انسانیت کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے زندگی گزاریں ، وہ سماج یقیناً بہتر سماج ہوگا۔ بہتر اخلاقی سماج ہی کا دوسرا نام بہتر انسانی سماج ہے۔ سماج کو اونچا اٹھانا ہے تو اخلاق کو اونچا اٹھائیے۔ سماج کو درست کرنا ہے تو اس کے افراد کو اخلاقی اعتبار سے درست کیجئے۔ ہی بہتر سماج بنانے کا واحد یقینی راستہ ہے۔ اس کے سوا اس کا اور کوئی راستہ نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1993 All issues

Printed page