Al-Risala · April 1993 · page 26

جنت کا انعام

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۳، صفحہ ۲۶

جنت کا انعام

صحیح البخاری ، کتاب مناقب الانصار ، باب تزویج النبی صلی اللہ علیہ وسلم خدیجۃ و فضلھا کے تحت حضرت ابو ہریرہ کی ایک روایت ان الفاظ میں نقل کی گئی ہے : اتی جبریل النبی صلی اللہ علیہ وسلم جبر یل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ انھوں فقال : یا رسول اللہ ، هذه خديجة نے کہا کہ اے خدا کے رسول ، یہ خدیجہ آرہی ہیں قداتت معها اناء فيه ا دام أو طعام ان کے ساتھ ایک برتن ہے۔ اس میں کھانے أو شراب ۔ فإذا هي أتتك فاقرا اور پینے کا سامان ہے۔ جب وہ آپ کے پاس عليها السلام من ربھا ومنھی آجائیں تو ان کو ان کے رب کی طرف سے سلام و بشّرها ببيت في الجنة من کہہ دیں اور میری طرف سے بھی۔ اور ان کو خوش قصب لا صخب فيه ولا نصب - خبری دے دیں کہ جنت میں ان کے لیے ایک گھر ہو گا جس میں نہ کوئی شور ہو گا اور نہ کوئی تکلیف ۔

یہ واقعہ کہاں پیش آیا۔ اس سلسلہ میں ابن حجر العسقلانی نے الطبرانی کی ایک روایت کے حوالہ سے لکھا ہے کہ یہ اس وقت ہوا جب کہ آپ مکہ کے قریب غار حرا میں تھے (ف د ر اية سعيد بن كثير عند الطبرانی ، ان ذلك كان وھو بحراء) فتح الباری ۱۷۲/۷ یہ غالباً کسی دور کے اس زمانہ کی بات ہے جب کہ اہل مکہ آپ کو اور آپ کے اصحاب کو بیت اللہ میں نماز پڑھنے سے روکتے تھے چنانچہ آپ کو اور آپ کے اصحاب کو اکثر نماز اور عبادت کے لیے مکہ کے باہر پہاڑوں کی طرف جانا پڑتا تھا۔ غالباً اسی زمانہ میں آپ عبادت کے لیے غار نامی غار میں بھی گئے جو مکہ سے تقریباً ڈھائی میل کے فاصلہ پر ہے۔ اس وقت حضرت خدیجہ نے آپ کے لیے کھانا تیار کر کے اس کو غارِ حرا میں پہنچایا۔

مذکورہ واقعہ بعثت نبوی کے ابتدائی زمانہ سے تعلق رکھتا ہے۔ اس وقت مکہ میں آپ ایک بے یار و مددگار شخص کی حیثیت رکھتے تھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1993 All issues

Printed page