جنت کا انعام
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۳، صفحہ ۲۷
اس وقت کے حالات میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت اس طرح مسلم شخصیت نہ تھی جیسا کہ وہ آج نظر آتی ہے۔ اس وقت سارا معاملہ بالکل مختلف تھا۔ اس وقت آپ کی شخصیت ایک متنازعہ شخصیت تھی۔ لوگ آپ کو شبہ کی نظر سے دیکھتے۔ وہ آپ کے دعوے نبوت پر یقین کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔
اس نزاعی صورت حال کا یہ نتیجہ تھا کہ لوگ آپ کا مذاق اڑاتے اور آپ کے اوپر آوازے کستے۔ آپ لوگوں کے طنز کا نشانہ بنے ہوئے تھے۔ اسی کے ساتھ لوگوں کی طرف سے مسلسل آپ کو ایذا پہنچانے کا سلسلہ بھی جاری تھا۔
اس طرح آپ کی زندگی گویا شور و غل اور تکلیف و مصیبت کے درمیان تھی یہ دونوں تلخ تجربے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی پیش آرہے تھے اور آپ کی زوجہ محترمہ حضرت خدیجہ کو بھی۔
یہ وہ پس منظر تھا جس میں حضرت جبرئیل کی طرف سے مذکورہ بشارت نازل کی گئی۔ اور ان کی توجہ کو حال کے بجائے مستقبل کی طرف موڑ دیا گیا۔
کئی دور کے ابتدائی زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بیکسی اور عدم قبولیت کا جو ماحول تھا ، اس سے حضرت خدیجہ نے کوئی اثر نہیں لیا۔ ان ناموافق حالات سے اوپر اٹھ کر انھوں نے آپ کے پیغمبر ہونے کی حیثیت کو پہچانا۔ اور دل و جان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا۔ وہ صرف آپ کی زندگی کی ساتھی نہیں بنیں بلکہ وہ آپ کے مشن میں بھی آپ کی ساتھی بن گئیں ۔
حضرت خدیجہ کی یہی وہ خصوصیت ہے جس کی بنا پر ان کے لیے جنت کا وہ محل لکھ دیا گیا جو ہر قسم کے شور سے بھی خالی ہو اور ہر قسم کی تکلیف سے بھی۔ یہ بشارت براہ راست طور پر حضرت خدیجہ کے لیے ہے ، اور بالواسطہ پر ہر اس شخص کے لیے جو اس نوعیت کے ایمان کا ثبوت دے جس کا ثبوت حضرت خدیجہ نے اپنے زمانہ میں دیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1993 All issues