ایک تضاد
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۳، صفحہ ۲۸
ایک تضاد
مارچ ۱۹۸۴ میں میں ایک عرب ملک میں تھا۔ اتفاق سے اسی زمانہ میں ہندوستان کی ایک جماعت کے ذمہ دار بھی وہاں موجود تھے۔ ہندوستان سے وہ عربی زبان میں ایک رپورٹ تیار کر کے لے گئے تھے جس میں ان کی جماعت کے وہ کارنامے تحریر کیے گئے تھے جو اس نے تقسیم ہند کے بعد سے اب تک انجام دیے ہیں۔ اس رپورٹ کی ایک کاپی انھوں نے از راہِ عنایت مجھ کو بھی عطا فرمائی۔
اگلے دن ایک شیخ کے یہاں شام کا کھانا تھا۔ یہاں صرف میں اور مذکورہ بزرگ دو آدمی تھے جو ہندوستان سے تعلق رکھتے تھے۔ بقیہ تمام کے تمام شیوخ عرب تھے۔ کھانے سے پہلے ایک بڑے کمرہ میں غیر رسمی نشست تھی۔ اس مجلس میں گفتگو کرتے ہوئے مذکورہ بزرگ نے فرمایا : ہندوستان میں تو مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہاں ان کو مسجد میں بھی سجدہ کرنے کی اجازت نہیں۔
اس مجلس میں میری نشست ان کے قریب ہی تھی۔ میں نے ان کے کان میں کہا کہ حضرت، آپ یہ کس ملک کی بات کر رہے ہیں۔ کیا یہ اسی ہندوستان کا قصہ ہے جس سے نکل کر میں یہاں آیا ہوں۔ انھوں نے کہا : کیا آپ کو صفدر جنگ کی مسجد کا حال معلوم نہیں۔ اس مسجد کے اندر نماز پر حکومت نے پابندی لگا رکھی ہے۔ میں نے کہا استغفر اللہ۔ پھر آپ کو یوں کہنا چاہیے کہ ہندوستان کی تین لاکھ مسجدوں میں ہمیں اذان اور نماز کی کھلی اجازت ہے۔ البتہ صفدر جنگ کی مسجد جو آثار قدیمہ کے تحت ہے، وہاں آثار قدیمہ کے قانون کے مطابق تالا لگا دیا گیا ہے۔ یہ ایک علامتی مثال ہے جو بتاتی ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کا لکھنے اور بولنے والا طبقہ کس طرح ایک عجیب و غریب تضاد میں مبتلا ہے۔ ہندوستان کی مسلم جماعتوں اور یہاں کے مسلم اداروں کا حال یہ ہے کہ جب وہ ”ہندوستان میں ہمارا کام“ کے موضوع پر لکھیں گے یا بولیں گے تو ان کے پاس عظیم کارناموں کی لمبی فہرست ہوگی۔ ان کی رپورٹ پڑھ کر ایسا محسوس ہوگا جیسے کہ اس ملک میں وہ ہمالیہ پہاڑ کے برابر بڑے بڑے کام انجام دے رہے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1993 All issues