Al-Risala · April 1993 · page 29

ایک تضاد

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۳، صفحہ ۲۹

مگر انھیں جماعتوں اور اداروں کے ذمہ دار جب ” ہندوستان میں مسلمان “ کے موضوع پر لکھیں گے یا بولیں گے تو ان کی کہانی بالکل مختلف ہو جائے گی۔ اب ان کے بیان کو پڑھ کر یا سن کر ایسا محسوس ہو گا جیسے اس ملک میں مسلمان صرف قتل و غارت گری کا شکار ہو رہے ہیں۔ ترقی تو درکنار ، یہاں ان کو زندہ رہنے کے مواقع بھی حاصل نہیں ۔ یہ کیسا عجیب تضاد ہے۔ لوگوں کو جب خود اپنا کارنامہ بیان کرنا ہو تو اسی ہندوستان میں ان کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ بڑے بڑے کارنامے انجام دیں اور پر فخر طور پر اس کی شاندار رپورٹ تیار کر کے اسے ساری دنیا میں پھیلائیں۔ مگر جب ان کو ہندوستان میں مسلم قوم کی حالت بیان کرنا ہو تو اچانک یہی ملک مسلمانوں کے لیے محرومی اور بربادی کی آماج گاہ بن جاتا ہے ۔ عام مسلمانوں کو تو اس ملک میں جینے تک کا موقع حاصل نہیں۔ مگر خود ان مسلم رہنماؤں کو نا قابل قیاس حد تک یہ مواقع حاصل ہیں کہ وہ یہاں بڑے بڑے پر فخر کارنامے انجام دے سکیں ۔

کسی ملک میں بیک وقت یہ دونوں حالتیں پائی نہیں جاسکتیں۔ اگر ملک میں بسنے والے مسلمان تعصب اور ظلم کا شکار ہوں ، ان کو ہر اعتبار سے برباد کیا جارہا ہو تو یہ ناممکن ہے کہ اسی ملک کے رہنما خود اپنے کارناموں کے عالی شان گنبد تعمیر کر سکیں۔ اور اگر رہنماؤں کے لیے یہ ممکن ہو کہ وہ شاندار طور پر بڑے بڑے کارنامے انجام دیں تو ایسی حالت میں اسی ملک کے اندر ان کی قوم برباد اور خستہ حال نہیں ہو سکتی۔

مسائل انسانی سماج کا خاصہ ہیں۔ اس لیے وہ ہمیشہ اور ہر سماج میں موجود رہیں گے ۔ اس فطری حقیقت کو نظر انداز کر کے دیکھا جائے تو ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے وہ سب کچھ موجود ہے جو انفرادی یا ملی سطح پر انھیں درکار ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ حکمت اور دانش مندی کے ساتھ انھیں استعمال کیا جائے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1993 All issues

Printed page