Al-Risala · April 1993 · page 30

ایک تضاد

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۳، صفحہ ۳۰

شیعی ایک شرعی اصول اسلام کے قواعد طہارت کے مطابق ، جانور کا گوبر اور پیشاب نجس ہے ( کل رجیع وبول فھونجس) بدایۃ المجتہد ونھایة المقتصد لابن رشد القرطبی ، ۸۰/۱ - ۸۱ حیوانی گوبر کا شمار نجاست غلیظہ میں کیا گیا ہے۔ آدمی کے کپڑے میں اگر ایک درہم کے بقدر لید یا گوبر لگ جائے اور آدمی اسی حالت میں نماز پڑھ لے تو اس کی نماز نہ ہوگی۔ اس کے لیے ضروری ہو گا کہ وہ اپنی نماز کو دہرائے لیکن اگر عذر کی صورت پیدا ہو جائے تو یہی نجاست پاک کے حکم میں داخل ہو جاتی ہے :

ان فقهاءنا الائمة الاولين قد افتوا بتطهير اروات المواشى بالنسبة لاهل القرى والبوادى لعموم البلوى حيث يعسر التحرز عنها - اى انها يعفى عن نجاستہا تيسيراً عليهم ودفعاً للحرج عنهم ، نظراً للصعوبة صيانة آبارهم المكشوفة دور اول کے ائمہ فقہاء نے دیہاتوں اور صحراؤں میں رہنے والوں کے لیے عموم بلویٰ کی بنا پر مویشیوں کی لید کے پاک ہونے کا فتویٰ دیا ہے جب کہ اس سے بچنا دشوار ہوتا ہے۔ یعنی ان کی نجاست سے درگزر کیا جائے گا تا کہ ان لوگوں کے لیے آسانی ہو اور ان پر تنگی نہ رہے، اس بات کے پیش نظر کہ ان کے لیے یہ سخت مشکل ہے وغدرانهم من هذه الاروث ۔

(ڈاکٹر غریب الجمال، التامین، صفحه، ۲۴) کہ وہ اپنے کھلے کنوؤں اور تالابوں کو ان کی لید سے بچائیں۔

اس مثال سے اسلام کا ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے۔ یہ اصول، شریعت کی اصطلاح میں یسریا رفع حرج ہے۔ قرآن (الحج ۷۸) میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے تمہارے اوپر دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی (وما جعل عليكم في الدين من حرج) اسی طرح روزہ کے حکم کے ذیل میں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے، وہ تمہارے لیے سختی نہیں چاہتا (يريد الله بكم اليسر ولا يريد بكم العسر)

‹ Previous page Next page › Contents of April 1993 All issues

Printed page