ایک تضاد
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۳، صفحہ ۳۱
اسی بنا پر علماء اسلام کے درمیان اس مسئلہ پر کامل اتفاق ہیں۔ فقہاء نے اس کو شریعت کے ایک اہم اصول کے طور پر اختیار کیا ہے۔ علماء کے چند اقوال یہ ہیں : ضرورات ۔ تبیح المحظورات ۔ ضرورت میں ممنوع چیزوں کو جائز کر دیتی ہے۔ ما حرم لذاته يباح جو چیز فی نفسہ حرام ہے وہ ضرورت پر جائز لضرورة۔ ہو جاتی ہے۔
ما حرم لسد الذريعة يباح جو چیز سد ذریعہ کے طور پر حرام ہو وہ حاجت لحاجة۔ کے لیے جائز ہو جاتی ہے۔
اذا ضاق الامر اتسع۔ جب معاملہ تنگ ہو جائے تو کشادگی ہو جاتی ہے۔ المشقة تجلب التيسير۔ مشقت آسانی لے آتی ہے۔
شریعت کے مذکورہ اصول کا تعلق صرف طہارت اور نجاست کے معاملات سے نہیں ہے بلکہ زندگی کے تمام معاملات سے ہے۔ جب بھی کسی معاملہ میں عموم بلویٰ کی صورت پیدا ہو جائے تو اس کے بعد گنجائش اور رعایت کی یہ سہولت کسی قباحت کے بغیر حاصل ہو جائے گی۔
اس کی ایک مثال بینکنگنگ کا معاملہ ہے۔ موجودہ زمانہ کے تجارتی اور اقتصادی معاملات میں بینکنگ کا دخل اس سے بھی زیادہ ہو گیا ہے جتنا دیہات کے کسانوں کے لیے گوبر کا معاملہ۔ ایسی حالت میں یہ بات شرعی مزاج کے خلاف ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں پر بینک کے معاملہ میں وہ پابندیاں عائد کی جائیں جو دور عباسیہ کے مسلمانوں کے لیے ممکن ہو سکتی تھیں۔
شریعت نے اگر اہل قریٰ کے لیے حسب ضرورت سہولتیں تجویز کی ہیں تو نا ممکن ہے کہ وہی شریعت اہل مدن کے لیے ضرورت کے باوجود سختیاں عائد کرنے کا اصول اختیار کرے۔ مزید یہ کہ شرعی احکام کا تعلق جس طرح جزئیات سے ہے اسی طرح کلیات سے بھی ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ شریعت جزئی امور میں رعایت دے اور کلی امور میں وہ رعایت دینے سے انکار کر دے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1993 All issues