Al-Risala · April 1993 · page 32

تنقید کا اصول

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۳، صفحہ ۳۲

تنقید کا اصول

ایک صاحب نے کہا: "میں نے سنا ہے کہ آپ صحابہ کرام ، علماء عظام سب پر تنقید کرتے ہیں"۔ میں نے کہا کہ یہ بالکل لغو بات ہے۔ صحابہ اور علماء کے درمیان کا ما نہیں ہے بلکہ فل اسٹاپ ہے۔ علماء پر تنقید کا ہر شخص کو حق ہے، مگر صحابہ پر تنقید کا کسی کو حق نہیں۔ اصحاب رسول کا معاملہ ایک خصوصی معاملہ ہے۔ ان کے متعلق حدیث میں آیا ہے کہ لاتخذو هم من بعدی غرضا (میرے بعد ان کو نشانہ نہ بناؤ) اس لئے صحابہ مطلق طور پر تنقید سے مستثنیٰ ہیں۔ ان کے سلسلہ میں صرف یہ ممکن ہے کہ کسی مسئلہ میں اگر دو صحابی کے درمیان ایسا اختلاف پایا جائے جس میں تطبیق نہ دی جا سکتی ہو تو دونوں میں سے ایک کا انتخاب کیا جائے گا۔ یعنی ایسے مسئلہ میں ترجیح کا طریقہ اختیار کیا جائے گانہ کہ تنقید کا طریقہ۔

مگر صحابہ کے بعد جہاں تک دوسرے علماء اور رہنماؤں کا تعلق ہے تو ان کے بارے میں امام ابوحنیفہ نے فرمایا کہ وہ بھی آدمی اور ہم بھی آدمی (هم رجال ونحن رجال)، یہی صحیح اسلامی مسلک ہے اور یہی میرا مسلک ہے۔ میں صحابہ کرام کو تنقید سے مستثنیٰ سمجھتا ہوں۔ میں نے کبھی صحابہ کرام پر تنقید نہیں کی اور نہ بقید ہوش و حواس ایسا کر سکتا ہوں۔ مگر صحابہ کے بعد دوسری اسلامی شخصیتوں پر علمی تنقید کی جاسکتی ہے۔ اور ایسی تنقید ہر دور میں علماء امت کے درمیان جاری رہی ہے۔ غیر صحابہ پر تنقید کے معاملہ میں کبھی کسی نے نکیر نہیں کی۔

تاہم غیر صحابہ پر تنقید کے سلسلہ میں بھی ایک فرق کو ملحوظ رکھنا لازمی طور پر ضروری ہے۔ وہ یہ کہ وہ تنقید ہو نہ کہ تعییب۔ یعنی علمی اختلاف رائے ہو نہ کہ ذاتی الزام تراشی۔ مثال کے طور پر علامہ ابن تیمیہ (۶۶۱- ۷۲۸)، کی زندگی کا ایک پہلو یہ ہے کہ انھوں نے نکاح نہیں کیا۔ دوسرا یہ کہ انھوں نے بہت سی کتابیں لکھیں۔ ان کے نکاح نہ کرنے کو میں ایک ذاتی مسئلہ قرار دوں گا اور اس کی بنیاد پر ان کے اوپر کوئی تنقید نہیں کروں گا۔ مگر ان کی کتابیں میرے نزدیک مقدس نہیں۔ اگر میں اگر کوئی بات غیر صحیح نظر آئے تو اس پر علمی حدود میں تنقید کی جاسکتی ہے۔ مزید وضاحت کے لئے میں نے اپنی الماری سے ابن تیمیہ کی کتاب الجواب الصحیح لمن بدل

‹ Previous page Next page › Contents of April 1993 All issues

Printed page