Al-Risala · April 1993 · page 33

تنقید کا اصول

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۳، صفحہ ۳۳

دین المسیح نکالی۔ یہ ضمیم کتاب ابن تیمیہ نے ایک عیسائی عالم کے جواب میں لکھی ہے۔ بنیادی طور پر یہ ایک صحیح کتاب ہے۔ مگر اس کی بہت سی باتیں مناظرانہ انداز کی ہیں۔ خالص شرعی معیار پر وہ درست نہیں۔

مثال کے طور پر کتاب کے جڑ اہم میں انھوں نے اس بات کی مختلف دلیلیں دی ہیں کہ دین مسیح کے مقابلہ میں دین محمدی زیادہ کامل ہے۔ ان کی ایک دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورا دین پہنچایا جب کہ دوسرے پیغمبروں نے پورا دین نہیں پہنچایا :

فضمن الله له العصمة اذ ابلغ رسالته اللہ نے تبلیغ رسالت کے معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ فلـهـذا ارشد الناس الى جميع الحق والقی وسلم کی حفاظت کی ضمانت لے لی تھی. اس لئے آپ نے الى الناس مـالـم يكـن غيره من الانبياء القاء لوگوں کو پورا حق بتایا۔ آپ نے لوگوں کو وہ باتیں خوفا ان یقتلوه كما يذكرون عن المسيح پہنچائیں جو آپ کے سوا دوسرے نبیوں کے لئے ممکن وغيره (صفحه ۱۴) نہ ہو سکیں کیوں کہ انھیں خوف تھا کہ لوگ ان کو قتل کر دیں گے جیسا کہ مسیح اور دوسرے نبیوں کے لئے ذکر کیا جاتا ہے۔

یہ بات بذات خود صحیح ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا دین دین کامل ہے۔ مگر اس کی مذکورہ توجیہ ہرگز صحیح نہیں۔ یہ قرآن کی تصریحات سے ٹکراتی ہے۔ کیوں کہ قرآن میں واضح طور پر یہ بات موجود ہے کہ اللہ نے اپنے تمام پیغمبروں کی پوری مدد فرمائی۔ کسی پیغمبر کو اللہ نے اس طرح بے حفاظت نہیں چھوڑا کہ وہ لوگوں کی تعدی کے خوف سے خدا کی وحی کو کامل طور پر لوگوں تک نہ پہنچائے۔ جہاں تک موجودہ انجیل کا تعلق ہے، اس میں اس سلسلہ میں متضاد باتیں پائی جاتی ہیں مثلاً ایک طرف اس میں ہے کہ حضرت مسیح نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ جو باتیں میں نے اپنے باپ سے سنیں وہ سب تم کو بتادیں (یوحنا ۱۵: ۱۵)، دوسری طرف انجیل میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں تم کو ساری باتیں نہیں بتا رہا ہوں۔ تاہم اس کا سبب ، انجیل کے بیان کے مطابق قتل کا خوف نہیں بلکہ مخاطبین کا عدم تحمل ہے۔ اس سلسلہ میں انجیل کے الفاظ یہ ہیں ـــــ مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہنا ہے مگر اب تم ان کی برداشت نہیں کرسکتے : ۲۲ الرسائل اپریل ۱۹۶۳

‹ Previous page Next page › Contents of April 1993 All issues

Printed page