تنقید کا اصول
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۳، صفحہ ۳۴
اگر بالفرض حضرت مسیح نے یہ کہا ہو کہ میں تم کو پوری بات نہیں بتارہا ہوں تو اس کا سبب خود انجیل کے بیان کے مطابق ، یہ نہیں تھا کہ حضرت مسیح اس معاملہ میں اپنی ذات کے بارہ میں خوف رکھتے تھے ۔ بلکہ اس کا سبب یہ تھا کہ آنجناب کے نزدیک آپ کے مخاطبین اس کی استعداد نہیں رکھتے تھے کہ وہ پوری بات کا تحمل کر سکیں۔
یہ ایک عام شرعی اصول ہے جس پر خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل فرمایا ہے۔ مثلاً کہ میں آپ پر شراب اور اس طرح کی دوسری چیزوں کی بابت احکام نہیں اترے۔ کیوں کہ اس وقت لوگوں کے اندر اس کو قبول کرنے کا مادہ پیدا نہیں ہوا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ تنقید کسی بھی درجہ میں کوئی ممنوع چیز نہیں۔ جو چیز ممنوع ہے وہ اسلوب تنقید ہے نہ کہ خود تنقید ۔ تنقید کا مطلب دلائل کے ذریعہ اختلاف رائے ہے۔ اس معنی میں تنقید بلا شبہ مطلوب ہے ۔ لیکن اگر کوئی شخص کسی کو سب وشتم کرے یا بلا دلیل کسی کی مذمت کرنے لگے تو ایسا فعل یقیناً غیر شرعی ہوگا ۔ اندیشہ ہے کہ ایسا آدمی اللہ کے یہاں سخت پکڑ میں آجائے۔
مزید یہ کہ تنقید زندگی کی علامت ہے۔ زندہ قومیں تنقید کا استقبال کرتی ہیں۔ جو لوگ حق کے طالب ہوں وہ کبھی تنقید کو برا نہیں مانیں گے۔ البتہ جو لوگ شخصیتوں کے پرستار بن جائیں وہ ضرور تنقید کو سن کر بھڑ اٹھیں گے ، کیوں کہ تنقید کی زد ہمیشہ شخصیتوں پر پڑتی ہے نہ کہ حق و صداقت پر۔ شولاپور میں الرسالہ اور اسلامی مرکز کی کتابوں کے لئے مندرجہ ذیل پتہ پر رابطہ قائم کریں ۔
Mr. Mukhtar Ahmed, B.Sc 295, M Pachha Pet Solapur
‹ Previous page Next page › Contents of April 1993 All issues