ہندوستان اور مسلمان
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۳، صفحہ ۲۰
اقدار کا تصور تو ہمارے پاس موجود ہے۔ مگر ان اقدار کے حق میں عملی اور تاریخی نمونہ ہمارے یہاں موجود نہیں۔ یہ عملی نمونہ تمام مذاہب میں صرف اسلام میں پایا جاتا ہے۔ اس لیے ملک کی نئی تشکیل کے لیے اسلام سے مدد لینا ضروری ہے۔
یہ نہایت صحیح اور مثبت سوچ تھی۔ مگر اس سوچ کو واقعہ بنانے کے لیے مسلمانوں کو اس ملک میں ایک کردار ادا کرنا تھا۔ مسلمان بدقسمتی سے یہ کردار ادا نہ کر سکے۔ اس لیے یہ سوچ بھی واقعہ بننے سے رہ گئی۔ آزادی کے بعد ہمارا ایک بھٹک کر دوسرے راستہ پر چل پڑا۔ نام نہاد مسلم دانشور اس کے جواب میں کہیں گے کہ اس میں قصور مسلمانوں کا نہیں ہے بلکہ ہندوؤں کا ہے۔ تقسیم کے بعد اس ملک میں مسلمانوں کو مسلسل تعصب اور زیادتی کا سامنا پیش آیا۔ اس بنا پر مسلمان تحفظ اور دفاع کی نفسیات میں مبتلا ہو گئے۔ اور جو لوگ تحفظ اور دفاع نفسیات میں مبتلا ہو جائیں وہ کوئی تخلیقی کردار ادا کرنے کے قابل نہیں رہتے۔ مگر یہ جواب درست نہیں۔ مسلمانوں کو جس بات کی شکایت ہے، وہ تو دراصل وہ قیمت تھی جو مسلمانوں کو اس ملک میں ادا کرنا تھا۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو امامِ ہدایت بناتا ہے جو صبر کا ثبوت دیں (وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَيِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا)۔ اس سے معلوم ہوا کہ صبر ہی قیادت و امامت کی لازمی قیمت ہے۔ کسی ملک یا قوم میں قیادت و امامت کی ذمہ داری ادا کرنے کی ناگزیر شرط یہ ہے کہ دوسروں کی طرف سے پیش آنے والی زیادتیوں کو یک طرفہ طور پر برداشت کیا جائے۔ اس صبر و برداشت کے بغیر کسی کو امامت عالم کا مقام نہیں ملتا۔ یہ اللہ کا ایک محکم قانون ہے، اس میں کسی کا بھی کوئی استثنا نہیں۔ ۱۹۴۷ء کے بعد ہندوستان میں مسلمانوں کو جو کام کرنا تھا وہ یہ تھا کہ برادرانِ وطن کی طرف سے اگر کوئی اشتعال انگیز بات کی جائے تو اس کو نظر انداز کریں۔ برسوں میں اگر تعصب برتا جائے تو برداشت کر لیں۔ حتیٰ کہ عملی زیادتی کے واقعات پیش آئیں تب بھی اس پر صبر کر لیں۔ ہر حال وہ یک طرفہ اعراض کی پالیسی اختیار کریں۔
یہ مسلمانوں کے لیے وقفۂ عمل حاصل کرنے کی تدبیر تھی ، اس طرح وہ اپنے ذہن کو منفی رخ پر جانے سے روکتے۔ وہ ایسی فرصت پا لیتے جب کہ وہ مثبت طور پر لوگوں کے سامنے
‹ Previous page Next page › Contents of January 1993 All issues