تنقید کا اصول
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۳، صفحہ ۳۵
سفر نامہ - ۴ خطابات کا خلاصہ ۱۔ قرآن فہمی کی کلید کیا ہے۔ اس سلسلہ میں مختلف باتیں بتائی جاتی ہیں۔ مثلاً عربی دانی، شانِ نزول کی روایات، ربط ونظم، ناسخ اور منسوخ کا علم، انقلابی طرزِ فکر۔ اس قسم کی چیزیں قرآن فہمی میں مددگار ہو سکتی ہیں۔ مگر وہ قرآن فہمی کی کلید نہیں ہیں۔ قرآن فہمی کی کلید کوئی ایسی ہی چیز ہو سکتی ہے جس کا ذکر خود قرآن میں موجود ہو۔ قرآن کے مطابق، قرآن فہمی کی کلید صرف ایک ہے، اور وہ تقویٰ ہے۔ اسی لئے کہا گیا ہے کہ ھدی للمتقین۔ تقویٰ آدمی کو آخری حد تک سنجیدہ بنا دیتا ہے اور سنجیدگی ہی کسی کلام کو سمجھنے کی واحد کلید ہے۔
۲۔ تربیت کیا ہے۔ تربیت معروف قسم کے تربیتی کورس کا نام نہیں اور نہ متصوفانہ مشقوں سے اس کا کوئی تعلق ہے۔ تربیت کا تمام تر تعلق ذہنی بیداری سے ہے جس کو قرآن میں تدبر اور تفکر کہا گیا ہے۔ آدمی کے اندر تدبر اور تفکر جتنا زیادہ بڑھے گا اتنا ہی اس کا ذہنی ارتقاء ہوگا اور اسی نسبت سے اس کی روح میں معرفت اور تعلق باللہ کی صفات پیدا ہوتی چلی جائیں گی۔ تربیت کا ذریعہ فکری بیداری ہے نہ کہ عضو یاتی مشقیں۔
۳۔ جنت کس کے لئے ہے اور جہنم کس کے لئے۔ قرآن کے مطابق، جنت پاک روح کے لئے ہے اور جہنم آلودہ روح کے لئے۔ آدمی ہر آن انہیں دونوں چیزوں کے درمیان ہے۔ زندگی کا ہر موقع آدمی کو دو امکان کے درمیان کھڑا کر دیتا ہے۔ ایک رویہ سے وہ اپنی روح کو پاک کر کے جنتی بن جاتا ہے اور دوسرا رویہ اختیار کر کے وہ اپنی روح کو گندہ کرتا ہے اور اپنے آپ کو جہنم کا مستحق بنا لیتا ہے۔
۴۔ قول لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کیا ہے جو آدمی کو جنت میں لے جاتا ہے۔ قول کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ جو اوپر بی طور پر صرف زبان سے ادا کیا جائے۔ دوسرا وہ جو قلب کی گہرائی سے نکلے۔ اول الذکر کو تلفظ کلمہ اور ثانی الذکر معرفت کلمہ کہہ سکتے ہیں۔ تلفظ کلمہ کی دین میں کوئی حقیقت نہیں۔ مگر معرفت کلمہ انتہائی قیمتی ہے۔ وہ آدمی کی پوری زندگی کو بدل کر اُس کو اس قابل بنا دیتا ہے کہ اس کا انتخاب جنت میں بسانے کے لئے کیا جائے۔
۵۔ دعوت الی اللہ کیا ہے۔ دعوت الی اللہ وہ تبلیغی جد و جہد ہے جو غیر مسلموں میں دین کے
‹ Previous page Next page › Contents of April 1993 All issues