Al-Risala · April 1993 · page 36

تنقید کا اصول

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۳، صفحہ ۳۶

تعارف کے لئے کی جاتی ہے۔ ختم نبوت کے بعد یہی امت محمدی کا خارجی مشن ہے۔ اسی فریضہ کی ادائیگی پر امت محمدی کا امت محمدی ہونا متحقق ہوتا ہے۔ امت محمدی اگر اس کام کے لئے نہ اٹھے تو اس کی اصل حیثیت ہی مشتبہ ہو کر رہ جائے گی۔

۶۔ جہاد فی سبيل اللہ کیا جاتا ہے۔ اس کی مختلف ابتدائی شرائط میں سے ایک لازمی شرط تیاری (اعداد) ہے۔ تیاری کا معیار، قرآن کے مطابق اعداد تا حدِ اِرہاب ہے۔ یعنی اتنی تیاری کہ فریقِ مخالف اس سے ہیبت زدہ ہو جائے ۔ اس قسم کی تیاری کئے بغیر جہاد کا اقدام کرنا جہاد نہیں فساد ہے۔ کیوں کہ ایسا جہاد اپنے نتیجہ کے اعتبار سے صرف تباہی میں اضافہ کا باعث بنتا ہے۔ ۷۔ دعا کیا ہے۔ دعا یہ نہیں ہے کہ آپ کچھ الفاظ یاد کر لیں اور ان کو اپنی زبان سے دہراتے رہیں ۔ دعا عاجزِ مطلق کا قادرِ مطلق کو پکارنا ہے۔ دعا اس وقت دعا بنتی ہے جب کہ بندہ اپنے مسئلہ کو خدا کا مسئلہ بنا دے ۔ جب خود خدا کی خدائی کا یہ تقاضا بن جائے کہ وہ اپنے بندہ کی پکار پر دوڑ پڑے۔

۸۔ اللہ کی راہ میں رونا کیا ہے۔ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے لئے رونا وہ معتبر ہے جو تنہائیوں میں پیش آئے۔ جب آدمی اکیلا ہو۔ وہ اپنے رب کی عظمتوں کو یاد کرے اور خوف و محبت کے جذبہ کے تحت اس کی آنکھوں سے آنسو اہل پڑیں۔ مجمع میں رونے کا کوئی اعتبار نہیں۔

۹۔ شکر کیا ہے۔ شکر ملے ہوئے کی قدر دانی کرنے کا نام ہے۔ جب آدمی ملی ہوئی چیز کی قدر پہچانتا ہے اس کے بعد ہی اس کے اندر شکر خدا اوندی کا جذبہ ابلتا ہے۔ جس آدمی کی نظریں ملے ہوئے پر لگی ہوں وہ ملے ہوئے کی قدر نہیں پہچانے گا۔ اس لئے شکر کا جذبہ بھی اس کے اندر پیدا نہیں ہو گا۔

۱۰۔ ذکر کیا ہے۔ ذکر کسی قسم کے رٹے ہوئے کلمات کو دہرانے کا نام نہیں ہے۔ ذکر در اصل یاد کا نام ہے۔ جس کی یاد آدمی کے دل میں آئے اسی کی نسبت سے جذبات اس کے اندر پیدا ہوں گے۔ خدا سب سے بڑی ہستی ہے۔ وہی دینے والا ہے اور وہی چھیننے والا۔ اس لئے جب آدمی خدا کو یاد کرتا ہے تو وہ خدا کی عظمت و جلال میں غرق ہو جاتا ہے۔ اس کا سینہ ایک قسم کے

‹ Previous page Next page › Contents of April 1993 All issues

Printed page