تنقید کا اصول
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۳، صفحہ ۳۷
بھونچال تجربہ کرتا ۔ بھی وہ یادِ الٰہی ہے جس کو ذکر کہا گیا ہے۔
۱۱ خدا پرستی کا معیار کیا ہے ۔ خدا پرست ہونے کا معیار یہ ہے کہ آدمی کا جب یہ حال ہو جائے کہ اس کو بری نہ لگے اور تعریف پر اس کو خوشی نہ ہو تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ خدا بن گیا۔ خدا پرست ہونا دراصل خدا کو اس کی صفات کمال کے ساتھ پالینے کا نام ہے۔ اور یہی خدا کو اس کی صفات کمال کے ساتھ پالے اس کے لئے تنقید بھی بے معنی ہو جاتی ہے اور کا بھی بے معنی۔
۱۲ علمی طریقِ فکر کیا ہے ۔ علمی طریقِ فکر کا خلاصہ اس عربی مثل میں ہے کہ تعرف الاشیاء اضدادھا (چیزیں اپنے ضد سے پہچانی جاتی ہیں)، جب بھی آپ کسی بات کی حقیقت جاننا ہو تو ضد دریافت کیجئے اور دونوں کا تقابل کیجئے ، اس کے بعد اصل حقیقت اپنے آپ واضح ہوگی۔
۱۳ اکابر پرستی کی پہچان کیا ہے۔ اکابر پر تنقید سن کر جب آپ کو غصہ آئے تو سمجھ لیجئے کہ آپ کا بر پرستی کے مرض میں مبتلا ہیں۔
۱۴ قسط پر قائم رہنے والا کون ہے۔ قسط پر قائم رہنے والا وہ ہے جو اپنے آپ کو بھی اسی اوپر تولے جس ترازو پر وہ دوسروں کو تول رہا ہے۔ جس آدمی کے پاس اپنے لئے دوسرا ہو اور دوسروں کے لئے دوسرا باٹ ، وہ عادل نہیں ہے بلکہ ظالم ہے۔
سوال و جواب
ایک صاحب نے کہا کہ آپ تمام اکابر ملت پر تنقید کرتے ہیں۔ کیا آپ کے نزدیک ان اکابر کی یہی نہیں جو واقعہ صحیح اور درست ہو۔
میں نے کہا کہ یہ میرے اوپر الزام ہے۔ یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ میں تمام اکابر ملت پر تنقید کرتا صحیح بات یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے کچھ رہنماؤں نے جدید مسائل کے حل کے لئے جو تدبیر کی، میں اس تدبیر کار پر تنقید کرتا ہوں۔ اور تدبیر کار پر تنقید کرنا سرے سے کوئی قابل نں بات نہیں۔ تدبیر کار کے معاملہ میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے صحابہ تلاپ کیا۔ اس کے بعد امت کی پوری تاریخ میں، ہمیشہ اس قسم کے اختلافات کئے جاتے
‹ Previous page Next page › Contents of April 1993 All issues