تنقید کا اصول
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۳، صفحہ ۳۸
رہے پھر اگر میں امت کے اس متواتر عمل کی تقلید کرتا ہوں تو اس میں آخر اعتراض کی کیا بات ہے۔
ایک صاحب نے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو افضل الانبیاء مانتے۔ اتنی بڑی گستاخی کرنے کی جرات آپ کو کیسے ہوئی ۔
میں نے کہا کہ یہ ایک لغو الزام ہے جو میرے اوپر عائد کیا جاتا ہے۔ اس معاملہ میں میرا مسلک عین وہی ہے جو سے علماء امت کا مسلک رہا ہے۔ اگر آپ اس معاملہ کو سنجیدگی کے ساتھ چاہتے ہیں تو مشہور بزرگ اور عالم ابن کثیر الدمشقی کی تفسیر (۳۰۲/۱) کو پڑھ لیجئے ۔ انھوں نے امت کی نمائندگی کرتے ہوئے لکھا ہے عین وہی میرا مسلک ہے۔ آپ اس کو پڑھیں اور جو کچھ میں جو کچھ لکھا ہے اسی کو میری طرف سے بھی نوٹ کرلیں۔ کیوں کہ اس کے سوا میرا اور کوئی علم و عمل ۔ اگر آپ فی الواقع اس معاملہ میں سنجیدہ ہوں تو میرے اس جواب کے بعد آپ کی زبان ہمیشہ کے لئے بند ہوجانی چاہئے ۔
ایک صاحب نے کہا کہ میں آپ کا الرساله شوق سے پڑھتا ہوں۔ مگر مجھے آپ کے انداز سے اختلاف ہے۔ آپ کو چاہئے کہ غیر تنقید انداز میں لکھیں اور تنقیدی انداز چھوڑ دیں۔
میں نے کہا کہ آپ جیسے لوگ اس معاملہ کو ایک سادہ معاملہ سمجھتے ہیں۔ حالاں کہ وہ کوئی معاملہ نہیں۔ اصل یہ ہے کہ زندگی میں ہمیشہ دو میں سے ایک کے درمیان انتخاب کرنا پڑتا ہے لیکن سادہ لوح قسم کے لوگ تیسرا انتخاب لینا چاہتے ہیں۔ مگر تیسرا انتخاب موجودہ دنیا میں کبھی نہیں ہوتا۔
میں نے کہا کہ اس معاملہ میں ہمارے لئے جو انتخاب (چوائس) ہے وہ تنقید اور میں نہیں ہے۔ بلکہ تنقید اور ذہنی جمود میں ہے۔ اگر آپ تنقید کو ختم کر دیں تو باعتبار نتیجہ جو کے حصہ میں آئے گی وہ بے تنقیدی کی صورت حال نہیں ہو گی بلکہ جمود ذہنی کی صورت حال میں اور آپ میں یہ فرق نہیں کہ میں تنقید کو پسند کرتا ہوں اور آپ بے تنقید کو۔ بلکہ اصل فرق یہ ہے کہ میں نے ذہنی بیداری کا چوائس لیا ہے اور آپ ذہنی موت کا چوائس لینا چاہتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1993 All issues