Al-Risala · April 1993 · page 39

تنقید کا اصول

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۳، صفحہ ۳۹

پ خود غور کر لیجئے کہ دوناوں میں سے کون زیادہ بہتر ہے۔

ایک صاحب نے کہا کہ آپ مسلمانوں کو صبر و اعراض کی تلقین کرتے ہیں۔ یہ تو پس پائی کی بات مسلمان تو ایک مجاہد قوم ہیں۔ مسلمانوں کو شیر کی طرح رہنا چاہئے : مذہب مردوں نہ کہ مذہب فنداں۔

میں نے کہا کہ جس چیز کو آپ پس پائی کہتے ہیں یہ عین وہی طریقہ ہے جس کو تبلیغی جماعت سال سے اختیار کئے ہوئے ہے۔ الرسالہ مشن کے مقابلہ میں تبلیغی جماعت کا دائرہ جتنا بڑا ہے ن زیادہ بڑے پیمانے پر انھوں نے اس مسلک کو اختیار کر رکھا ہے۔ مولانا الیاس صاحب (۱۸۸۵ء) کے زمانہ سے لے کر آج تک مسلسل تبلیغ کے لوگ اسی طریقہ پر چل رہے ۔ مگر اس پوری مدت میں کسی ایک بھی قابل ذکر آدمی نے یہ نہیں کہا کہ تبلیغ والے مسلمانوں کو پس پائی آتے ہیں۔ اس کے برعکس الرسالہ مشن کے بارہ میں بہت سے لوگ شدت کے ساتھ یہی اض کر رہے ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ تبلیغ کے لوگ مسلم مدعو کے مقابلہ میں ”پس پائی“ کا طریقہ سکھاتے ہیں ہم غیر مسلم مدعو کے سلسلہ میں ”پس پائی“ کا طریقہ اختیار کرنے کے لئے کہتے ہیں۔ چونکہ آپ انوں کو اپنی قوم سمجھتے ہیں اس لئے ان کے مقابلہ میں پس پائی آپ کو بری نہیں لگتی۔ مگر غیر ں کو آپ غیر قوم سمجھے ہوئے ہیں اس لئے ان کے مقابلہ میں پس پائی کا موقع ہو تو اس کو آپ وقار کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ یہ حقیقتاً قوم خویش اور قوم غیر کی نفسیات کا مسئلہ ہے نہ کہ پس پائی بہادری کا مسئلہ۔

ایک صاحب نے کہا کہ آپ نے اپنی کتاب خاتونِ اسلام میں اپنی والدہ زیب النساء کو ت اسماء رضی اللہ عنہا کے برابر قرار دیا ہے۔ کیا یہ صحابیہ کی توہین نہیں ہے۔ آپ کی والدہ ایک یہ کے برابر کس طرح ہو سکتی ہیں۔

میں نے کہا کہ یہ ایک سراسر نادانی کا اعتراض ہے۔ آپ خاتونِ اسلام کو پڑھئے۔ اس کے صفحات میں جو مسئلہ زیر بحث ہے وہ یہ نہیں ہے کہ میری والدہ اپنے درجہ کے اعتبار سے یہ کے برابر ہیں۔ وہاں موازنہ صحابیہ اور غیر صحابیہ کے درمیان نہیں ہے بلکہ عورت کے بارہ میں

‹ Previous page Next page › Contents of April 1993 All issues

Printed page