Al-Risala · April 1993 · page 40

تنقید کا اصول

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۳، صفحہ ۴۰

اسلامی تصور اور غیر اسلامی تصور کے درمیان ہے۔ اور میں نے اسلامی نقطہ نظر کو صحیح تر ثابت کرنے کے لئے تین معلوم خواتین کی مثال دی ہے۔

عورت کے بارہ میں اسلام کا نقطہ نظریہ ہے کہ عورت کا مقام عمل (rkplace بنیادی طور پر اس کا گھر ہے۔ مگر اہل مغرب کا کہنا ہے کہ عورت گھر کے اندر رہ کر کوئی بڑا کام نہیں کر سکتی۔ اس لئے سماجی عمل میں شریک کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کو باہر لایا جائے۔ میں نے کتاب میں مغربی نقطہ نظر کی تردید کی ہے۔ نظری دلائل کے علاوہ اس سلسلہ میں میں نے خواتین کو بطور مثال پیش کیا ہے۔ ایک، اسلامی دور کی خاتون حضرت اسماء۔ دوسرے، تاریخ ایک خاتون نور جہاں۔ تیسرے، ذاتی تجربہ کے دائرہ کی ایک خاتون زیب النساء۔ ان تین حقیقی مؤث کا حوالہ دے کر میں نے بتایا ہے کہ ایک عورت گھر کے اندر رہ کر بھی بڑے بڑے اجتماعی کام کر سکتی اس پوری بحث میں جو نکتہ اثبات ہے وہ یہ نہیں ہے کہ میری ماں صحابیہ کے برابر ہیں۔ بلکہ اثبات یہ ہے کہ مغرب کا نقطہ نظر بے بنیاد اور اسلام کا نقطہ نظر عین درست ہے۔ ایسی حالت میں مذکورہ اعتراض سراسر بے معنی ہے۔

پھر میں نے کہا کہ جب بھی کسی چیز کی مثال دینا ہو تو ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ اس کے بہت پہلو ہوتے ہیں۔ مگر علم الادب کا یہ مستقل اصول ہے کہ کسی کلام میں جب کوئی مثال لائی جائے تو وہاں کا صرف مطلوبہ پہلو منطبق ہوگا۔ بقیہ تمام پہلو اپنے آپ حذف ہو جائیں گے۔ اس کی وضاحت کے لئے ایک مثال لیجئے۔ قرآن میں ضعف کو بتانے کے لئے مکھی دی لایج ۳، مثال دی گئی ہے۔ مکھی میں ضعف کے علاوہ اور بھی بہت سی خصوصیتیں ہیں۔ مثلاً مکھی ہمیشہ گندگی اوپر بیٹھتی ہے۔ مگر قرآن کی مذکورہ آیت میں مکھی کا صرف ضعف کا پہلو منطبق کیا جائے گا، اس کا گندہ کا پہلو اپنے آپ حذف ہو جائے گا۔ اسی طرح خاتونِ اسلام میں جن عورتوں کی مثال دی گئی۔ ان کا صرف وہ پہلو وہاں مراد ہوگا جو زیر بحث نکتہ سے متعلق ہے۔ ان کے بقیہ پہلو وہاں حذر قرار پائیں گے۔

ایک کشمیری مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ آپ ہمیشہ صبر کی تلقین کرتے ہیں۔ ہم کہاں تک صبر کریں۔ ہندوستان نے ہم کو اپنے دستور کی دفعہ ۳۷۰دی تھی۔ اس کو بھی اس نے ع

‹ Previous page Next page › Contents of April 1993 All issues

Printed page